اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 280
اولاد النبی 280 حضرت فاطمه بنت محمد بہت سی پاک اولاد پیدا ہو۔" پھر رسول اللہ صلی یا تم منبر سے اتر آئے اور حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم بھی کچھ کہو جس پر انہوں نے خدا کی حمد کی اور حضور علی یا تم پر درود بھیجنے کے بعد کہا کہ رسول الله طی می کنم نے اپنی لڑکی فاطمہ کا مجھ سے نکاح کیا ہے اور میری یہ زرہ اس کا مہر ہے اور میں اس پر راضی ہوں۔حضرت فاطمہ کی تقریب رخصتی (6 تم رسول پاک طی کریم نے اس مبارک جوڑے پر اپنے وضو کا پانی چھڑک کر دعائے خیر دی۔حضرت اسماء بنت عمیں کہتی تھیں کہ مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے جب رسول کریم مالی علی الامر ان دونوں کیلئے بوقت رخصتی خاص دعا کر رہے تھے۔آنحضرت علی علی کریم نے نہایت سادگی سے حضرت فاطمہ کو رخصت کیا اور انہیں نصیحت کے رنگ میں فرمایا "تمہارا شوہر دنیاو آخرت میں سردار ہو گا۔یہ میرے اولین صحابہ میں سے ہے اور علم و حلم میں دوسروں سے بڑھ کر ہے " ضرورت کی چند گھریلو چیزیں جو حضرت فاطمہ کو دی گئیں ان میں کمبل ، تکیہ، چار پائی، بستر ، چادر ، آٹا پینے کی چکی، چھانی، مشکیزہ، پیالہ اور دو گھڑے شامل تھے۔یہ تھی بوقت شادی سرکار دو عالم کی صاحبزادی کی کل کائنات۔حضرت علیؓ کی زندگی بھی درویشانہ تھی۔دعوت ولیمہ تک کے لئے کچھ انتظام نہ تھا۔چنانچہ جنگل سے گھاس کاٹ کر شہر کے سناروں کو بیچ کر ولیمے کے لئے رقم اکٹھی کرنے کا ارادہ کیا۔مگر جب یہ بھی ممکن نہ ہوا تو خو در سول کریم علی، حضرت سعد اور بعض اور صحابہ کی اعانت سے پر وقار ولیمہ کی تقریب ممکن ہوئی۔جو کھجور ، منقہ ، جو کی روٹی ، پنیر اور شوربے کی دعوت تھی۔اس زمانے کے اقتصادی حالات اور غربت اور سادگی کا اندازہ حضرت اسماء کی اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے۔آپ فرماتی تھیں کہ اس زمانے میں اس دعوت ولیمہ سے بہتر کوئی ولیمہ نہیں ہوا۔0 حضرت فاطمہ سے محبت و شفقت حضرت فاطمۃ الزھراء رسول الله علی علیم کے سایہ عاطفت میں پروان چڑھیں۔آپ کی محبت بھری تربیت کا اثر تھا کہ حضرت فاطمہ میں بھی آپ کی پاکیزہ سیرت کار نگ جھلکتا نظر آتا تھا۔