اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 245 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 245

ازواج النبی 245 حضرت ریحانہ ย حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی علامہ شبلی کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے اگر اس روایت کو تسلیم بھی کیا جاوے کہ آنحضرت نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا تو تب بھی آنحضرت نے اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی فرمائی تھی اور اسے لونڈی کے طور پر نہیں رکھا۔اسی طرح آپ تحریر فرماتے ہیں ” چنانچہ جن مؤرخین نے ریحانہ کے متعلق یہ روایت کی ہے کہ آنحضرت لم نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا ان میں سے اکثر نے ساتھ ہی یہ صراحت کی ہے کہ آپ نے اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لی تھی۔چنانچہ ابن سعد نے ایک روایت خود ریحانہ کی زبانی نقل کی ہے جس میں وہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت لیلی تم نے مجھے آزاد کر دیا تھا اور پھر میرے مسلمان ہو جانے پر میرے ساتھ شادی فرمائی تھی اور میر امہر بارہ اوقیہ چاندی (قریباً پانچ صد درہم) مقرر ہوا تھا اور ابن سعد نے اس روایت کے مقابلہ میں اس دوسری روایت کو جس پر ولیم میور نے بنیاد بنا کر اعتراض کیا ہے صراحت کے ساتھ غلط اور خلاف واقعہ قرار دیا ہے۔اور لکھا ہے کہ یہی اہل علم کی تحقیق ہے۔“ پس اس تحقیق کے مطابق حضرت ریحانہ سے رسول اللہ علیم کی شادی والی ابن سعد کی روایت ہی لائق قبول ٹھہرتی ہے جسے انہوں نے اپنے ہاں اثبت الا قاویل یعنی سب سے ثقہ اور پختہ روایت قرار دیا ہے۔اس لحاظ سے یہ شادی بد عہد قبیلہ بنو نضیر پر ایک اور احسان تھا کہ وہ بھی چاہیں تو تو بہ کر کے رسول الله طی یکم کے دامن عفو میں آسکتے ہیں۔ابن سعد کی دیگر روایات کے مطابق یہ شادی محرم 6ھ میں حضرت ریحانہ کے حالت طہر کے انتظار کے بعدام المنذر بنت قیس کے گھر میں ہوئی۔ایک اور روایت میں یہ بھی بیان ہے کہ آنحضرت علیم نے ریحانہ کو اختیار دیا کہ اسلام قبول کر لیں تو اول انہوں نے اپنے دین پر قائم رہنے کو ترجیح دی۔پھر آنحضور نے ان سے فرمایا کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو آپ کے عقد میں آسکتی ہیں۔پہلے پہل ریحانہ نے یہ پسند نہ کیا۔مگر معلوم ہوتا ہے آپ اس مقصد کے لیے تدبیر اور دعاؤں کا سلسلہ شروع کرنے سے پر امید تھے کہ وہ ضرور اسلام قبول کر لیں گی۔یا شاید اللہ تعالٰی کی طرف سے آپ کو اسکی پیشگی اطلاع ہو۔چنانچہ ایک روز حضور "صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے تو کسی کے قدموں کی آہٹ آئی۔آپ نے فرمایا یہ ثعلبہ بن سعید ہے جو ریحانہ کے اسلام کی خوشخبری لا رہا ہے۔چنانچہ 28 ایسا ہی ہوا۔ریحانہ کے قبول اسلام کے بعد آنحضور میں ہم نے حسب وعدہ انہیں عقد میں لے لیا۔29