اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 244 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 244

ازواج النبی 244 حضرت ریحانہ ย ریحانہ ان قیدیوں میں سے تھیں جنہیں آنحضرت لیلی یا تم نے خود بطور احسان چھوڑ دیا تھا ور اس کے بعد ریحانہ مدینہ سے رخصت ہو کر اپنے میکے کے خاندان (بنو نضیر ) میں چلی گئی تھیں اور پھر وہیں رہی اور علامہ ابن حجر نے جو اسلام کے چوٹی کے محققین میں سے ہیں۔اسی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔روایات کے تجزیہ و تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مؤرخ ابن سعد نے ریحانہ کے بارہ میں واقدی سے دو 21 66 روایات لکھی ہیں اوّل کہ وہ کنیز ہی تھیں دوسرے یہ کہ رسول اللہ علیم نے ان سے نکاح کر لیا تھا۔کنیز والی روایت کو خود ابن سعد نے کمزور قرار دیا ہے اس روایت کے مطابق ریحانہ کو بنو قریظہ کے دیگر قیدیوں کے ساتھ رسول اللہ علی کی کمی کی خدمت میں پیش کرتے وقت ان کے حسن و جمال کی وجہ سے انہیں باقی قیدیوں سے الگ کر لیا گیا۔بنو قریظہ کے قیدیوں کے قتل اور تقسیم کے بعد رسول اللہ یہی ان کے پاس گئے اور انہیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو آزاد ہو کر آنحضور سے نکاح کر لیں یا کنیز بن کر رہیں۔انہوں نے یہی پسند کیا اور وفات تک وہ کنیز رہیں۔اسی روایت کی بناء پر بعض عیسائی مؤرخین کو زبان طعن در زا کرنے کا موقع ملا۔جیسا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس بارہ میں سرولیم میور کے دل آزار اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے اس روایت کو صحیح بخاری اور دیگر صحیح روایات کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان روایات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔علامہ شبلی نعمانی نے بھی اسی الزام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک (عیسائی) مؤرخ کے نہایت طعن آمیز الفاظ کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ ”بانی اسلام جب سات سو مقتولین کے تڑپنے کا تماشاد یکھ چکا تو گھر پر آکر تفریح خاطر کیلئے۔۔۔۔“ اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ موصوف نے ریحانہ کے کنیز ہونے کے اس واقعہ کو سرے سے غلط قرار دیا ہے۔علامہ شبلی نے حضرت ریحانہ کے حرم ( نبوی) میں داخل ہونے کی روایتوں کو واقدی اور ابن اسحاق سے 23 24 رض ماخوذ قرار دیا ہے۔جن کے مطابق خود ریحانہ کے بقول آنحضرت لیلی لیلی یک کلیم نے انہیں آزاد کر کے شادی کی تھی۔پھرانہوں نے علامہ ابن حجر کے حوالہ سے تاریخ مدینہ کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ریحانہ رسول الله طی می کنیم کی زوجہ تھیں۔اور حافظ ابن مندہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ قید سے آزادی کے بعد وہ اپنے خاندان میں پردہ نشین ہو کر رہنے لگیں۔علامہ شبلی کی ساری بحث کا خلاصہ حضرت ریحانہ کے بارہ میں یہ ہے کہ ”اگر یہی مان لیا جائے کہ وہ حرم نبوی میں آئیں تب بھی قطعا وہ منکوحات میں تھیں کنیز نہ تھیں۔66