اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 209 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 209

ازواج النبی 209 حضرت ماریہ رض الغرض ان دو بہنوں کو خدمتِ اقدس میں بھجوانے سے شاہ مصر کے رسول اللہ علیم کے ساتھ رشتہ مصاہرت کرنے اور آپ کی سچائی کی اس علامت سے جانچنے کا عندیہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ (نبی) دو بہنوں کو اکٹھا نہیں کرے گا۔چنانچہ رسول اللہ علیم نے ان دونوں بہنوں میں سے حضرت ماریہ کو اپنے حرم میں داخل کیا اور دوسری بہن سیرین کا رشتہ حضرت حسان بن ثابت سے کروا کر جہاں اسلامی اخوت کی عظیم الشان مثال قائم فرمائی۔وہاں قرآنی حکم کے مطابق مقوقس کی بیان کردہ نشانی کی بھی تصدیق فرما دی۔کیونکہ اسلامی شریعت کے مطابق ایک شخص کادو بہنوں کو عقد میں جمع کرنا حرام ہے۔(النساء:6) ย حضرت ماریہ رسول اللہ صلی می ریم کے حرم میں رسول اللہ لی تم نے حضرت ماریہ کو اپنے حرم میں شامل کر کے انہیں با قاعدہ پر دہ کر وایا اور نو مسلم ہونے کے باعث ابتدائی دنوں میں خصوصیت سے ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ فرمائی۔اس بارہ میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے کہ " اس وجہ سے مجھے سب سے زیادہ غیرت ماریہ پر آتی تھی۔وہ گھنگھریالے بالوں والی ایک خوبصورت خاتون تھیں۔اور رسول الله می کنیم کو بہت عزیز بھی تھیں۔آنحضرت لیلی یا ہم نے انہیں پہلے پہل ہمارے پڑوس میں ہی حضرت حارثہ بن نعمان کے گھر پر رکھا۔آپ شروع کے دنوں میں وہاں کثرت سے تشریف لے جاتے رہے۔پھر انہیں نواح مدینہ میں کھجور کے ایک باغ میں ٹھہرایا۔جہاں حضور طی نیم گاہے بگاہے تشریف لے جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے اولاد بھی عطا کی اور ہم اس سے محروم رہیں۔" ابن سعد میں واقدی کی حضرت عائشہ سے منسوب یہ روایت جس میں حضرت ماریہ کے ہاں رسول اللہ علی ایم کے کثرت سے جانے کا ذکر ہے قابل قبول نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ حضرت عائشہ کی دیگر صحیح روایات بخاری، ابوداؤد و مسند احمد کے خلاف ہے جن کے مطابق "رسول کریم اپنی بیویوں کے مابین اخراجات اور وقت کی تقسیم میں برابری اور عدل سے کام لیتے تھے۔" اور وقت وغیرہ کی تقسیم میں بیویوں میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ دیتے تھے اور کم ہی کوئی دن ہوتا تھا جب آپ سب بیویوں کے گھروں میں چکر نہ لگائیں۔اس کے بعد اس بیوی کے گھر تشریف لے جاتے تھے جہاں باری ہوتی تھی۔حتی کہ سفر میں کسی بیوی کو ہمراہ لے جانا ہوتا تو قرعہ اندازی سے فیصلہ فرماتے۔اس تناظر میں واقدی کی مذکورہ روایت کا متعلقہ 6 11