اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 170
ازواج النبی 170 رض حضرت اُم بھجوائیں۔پھر اگلی صبح وہ میرے لیے عود اور عنبر وغیرہ کی خوشبوئیں اور پاؤڈر وغیرہ لے کر آئیں۔حبشہ سے یہ تحائف لے کر میں جب رسول اللہ علیم کے پاس مدینہ آئی تو یہ چیزیں استعمال کیا کرتی تھی۔آپ نے کبھی ان کو نا پسند نہیں فرمایا۔بادشاہ کی خادمہ خاص ابرہہ نے مجھے وہ تحائف دیتے ہوئے کہا کہ اب آپ کو بھی میرا ایک کام کرنا ہو گا اور وہ یہ کہ رسول اللہ لی لی نیلم کو میر اسلام کہنا اور عرض کرنا کہ میں آپ کا دین اختیار کر کے مسلمان ہو چکی ہوں۔اسکے بعد جب تک میں وہاں رہی ، ابرہہ نے مجھ سے بہت ہی محبت کا سلوک کیا۔تقریب نکاح پر بھی اسی نے مجھے تیار کیا تھا۔وہ جب مجھے ملنے آتی تو مجھے یاد کر وانے کی خاطر کہتی کہ بی بی ! میرا کام بھول نہ جانا۔حضرت ام حبیبہ بیان کرتی تھیں کہ جب میں رسول اللہ علی نیم کے پاس مدینہ حاضر ہوئی تو آپ کو بتایا کہ حبشہ میں نکاح وغیرہ کی تقریب کس طرح ہوئی تھی اور شاہی خادمہ ابرہہ کے جو واقعات و معاملات میرے ساتھ گزرے ان کا بھی میں نے ذکر کیا۔رسول اللہ صلی تم اس سے خوب محظوظ ہوئے۔تب مجھے بادشاہ کی خادمہ ابرہہ کا پیغام یاد آیا اور میں نے اس کا سلام رسول اللہ ی ی ی یکم کی خدمت میں عرض کیا۔آپ نے جواب میں فرما یاوَ عَلَيْهَا السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُہ کہ اس پر بھی سلام اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔الغرض حضرت ام حبیبہ مکہ کے ایک بڑے سردار ابو سفیان کی بیٹی تھیں آنحضرت لی ایم کے ساتھ ان کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے لئے شاہ نجاشی نے شایانِ شان اہتمام کیا۔جس کا ذکر مختلف روایات میں موجود ہے۔چنانچہ علامہ جوزی اور امام بیہقی نے لکھا ہے کہ آنحضرت علی یا تم نے اپنے نمائندہ عمرو بن امیہ کو اس رشتہ کے لئے بھجوایا تو حضرت نجاشی نے آنحضرت علی الی السلام کے ساتھ حضرت ام حبیبہ کا اعلان نکاح کرتے ہوئے اپنی طرف سے حضور کی نمائندگی میں چار سو دینار کا مہبر بھی ادا کیا بعض روایات میں یہ رقم چار ہزار درہم بیان ہوئی ہے جبکہ عام ازواج کا حق مہر چار سو درہم تھا۔اور پھر شر حبیل بن حسنہ کے ساتھ حضور ملی ایم کی خدمت میں انہیں بڑی کشتیوں کے ذریعہ مدینہ بھیجوانے کا بھی انتظام کیا۔5 رض حضرت ام حبیبہ اس بحری سفر کا مختصر حال بھی بیان فرماتی تھیں کہ " نجاشی نے ہمارے لیے دو بڑی کشتیوں کے ساتھ ماہر ملاحوں اور کشتی بانوں کا انتظام بھی کر دیا تھا۔یہاں تک کہ ہم مدینہ کے ساحل سمندر تک پہنچے۔وہاں سے دیگر سواریوں کے ذریعہ مدینہ پہنچے۔6 11