اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 142
ازواج النبی 142 حضرت زینب بنت جحش کے گھر آئی تھیں۔اور رخصتی کے بعد حضور کا اپنے گھر میں یا حضرت زینب کے کمرہ میں بلا اجازت و اطلاع جانا قابل اعتراض نہیں، نہ ہی کوئی غیر معمولی خلاف دستور بات ہے۔حضرت زینب بنت جحش اپنی اس شادی کا ذکر فخر کے رنگ میں کیا کرتی تھیں کہ دیگر ازواج مطہرات کے مقابل پر مجھے یہ خصوصیت عطا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ شادی کروانے کی نسبت اپنی ذات سے دی جیسا کہ فرمایا کہ جب زید کا نکاح حضرت زینب کے ساتھ ختم ہو گیا تو اس کے بعد اے نبی ہم نے تیرا نکاح حضرت زینب کے ساتھ کر وادیا۔حضرت زینب فرماتی تھیں کہ دیگر ازواج کے نکاح کا فیصلہ کرنے والے ان کے ولی تھے۔مگر آنحضور طیم کے ساتھ میرے نکاح کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔میرا حق آپ پر دوسری بیویوں سے بڑھ کر ہے اور جبرائیل میرے نکاح کے سفیر تھے۔رحمی رشتہ کے قریبی ہونے کے لحاظ سے کہ میں آپ کی پھوپھی زاد ہوں جس سے بڑھ کر کوئی قریبی رشتہ والی اور بیوی نہیں اور پردہ کے احکام لاگو ہونے کے لحاظ سے بھی میں بڑھ کر ہوں ( کہ آپ کی شادی کے موقع پر آیت الحجاب اتری تھی)۔بلاشبہ جبرائیل کا اس نکاح کے لیے سفیر ہونا ایک سعادت تھی جو آپ کے حصہ میں آئی۔مگر اس روایت کی بناء پر یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ نکاح کے وقت حضرت زینب کے کوئی ولی ہی مقرر نہیں ہوئے تھے۔صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپ کے بھائی کی ولایت میں یہ نکاح عمل میں آیا تھا۔تاہم حضرت زینب کا یہ فخر اپنی جگہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں ان کے ساتھ نکاح کا ارشاد فرمایا تا کہ رسوم جاہلیت کا قلع قمع کیا جائے۔دعوت ولیمہ حضرت زینب حضور کی پھوپھی زاد اور قبیلہ قریش کی سید زادی تھیں۔آنحضرت ا ہم نے الہی منشاء کے تابع ہو نیوالی اس بابرکت شادی کے موقع پر نہایت عمدہ اور خصوصی دعوت ولیمہ کا انتظام کیا۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت زینب بنت جحش کی شادی کے موقع پر حضور نے بہت لوگوں کو دعوت دے کر بلایا۔لوگ باری باری دس دس کی ٹولیوں کی صورت میں حضرت زینب کے لئے تیار کئے گئے کمرہ میں آتے اور کھانا کھا کر چلے جاتے۔آخر میں کچھ لوگ کھانا کھا کر وہیں بیٹھ رہے اور ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف ہو گئے۔اس موقع پر حضور کئی دفعہ اس کمرے کے پاس آکر اس انداز میں کھڑے ہوئے جیسے انسان