اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 141
ازواج النبی 141 حضرت زینب بنت جحش نے کلام کیا ہے۔خصوصاً اس لئے کہ اس روایت کے بیان میں حضرت انس سے یہ تسامح بھی ہوا ہے کہ انہوں نے شادی کے واقعات کو ترتیب کے لحاظ سے آگے پیچھے بیان کر دیا۔انہوں نے حضرت زینب کو رسول اللہ علیم کی طرف سے شادی کا پیغام بھیجوانے کے بعد نکاح کر لینے کی وحی قرآنی کا ذکر کیا ہے جو در ایتا درست نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ آیت جس میں دراصل حضرت زینب سے عقد کی اجازت کا ذکر ہے شادی سے پہلے ہی ہو سکتی ہے نہ کہ بعد۔آیت کے الفاظ یہ ہیں۔وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ فَلَمَّا فَقَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَجْنَاكَهَا (الاحزاب : 38) یعنی تو اپنے نفس میں وہ بات چھپا رہا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خائف تھا اور اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ تو اس سے ڈرے۔پس جب زید نے اس (عورت) کے بارہ میں اپنی خواہش پوری کر لی اور اسے طلاق دے دی)، ہم نے اسے تجھ سے بیاہ دیا۔پس اول تو قرآن شریف جو تاریخ اسلامی کا سب سے صحیح ریکارڈ ہے اس میں وحی الہی کے نتیجہ میں آنحضور کے اس نکاح کا ذکر ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آیات پہلے اتر چکی تھیں۔خواہ حضرت انس کے علم میں بعد میں آئی ہوں۔اس کی تائید ائمہ اہل بیت میں سے حضرت امام حسین کے صاحبزادے حضرت امام علی زین العابدین کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ۔۔۔اللہ نے اپنے نبی ٹیم کو زینب سے شادی سے قبل بتادیا تھا کہ وہ آپ کی ازواج میں سے ہو گی۔چنانچہ جب حضرت زید آپ کے پاس شکایت لے کر آئے تو آپ نے قرآنی بیان کے مطابق انہیں نصیحت فرمائی کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روک رکھو۔اس پر اللہ تعالی نے آپ کو فرمایا کہ میں آپ کو پہلے خبر دے چکا ہوں کہ آپ کی شادی حضرت زینب سے ہو گی۔آیت 11 کے اس حصہ کہ " تو اپنے دل میں وہ بات چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا" سے یہی بات مراد ہے۔پس یہ آیات حضرت زینب کو پیغام شادی بھجوانے سے قبل نازل ہو چکی تھیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی علیحدہ وحی خفی بھی اس بارہ میں نازل ہوئی ہو ، بہر حال اس شادی کا فیصلہ وحی الہی کے نتیجہ میں ہوا۔اسی طرح صحیح مسلم کی روایت میں جو رسول اللہ علیم کے حضرت زینب بھی اجازت کے بغیر ان کے گھر جانے کا ذکر ہے اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ نکاح کی ظاہری رسم ادا نہیں ہوئی، درست نہیں ہے۔کیونکہ یہ بات صحیح بخاری کی روایت کے صریح خلاف ہے جس کے مطابق حضرت زینب رخصت ہو کر آنحضرت علی علی کریم