اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 123
ازواج النبی 123 حضرت ام سلمہ 16 حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ ابو سلمہ کی وفات کے بعد میں حیران ہو کر سوچتی تھی کہ ابو سلمہ سے بہتر بھی کوئی ہو سکتا ہے ؟ وہ تو ایک عظیم انسان تھے، ان سے بہتر کوئی کیسے ہو سکتا ہے ؟ فرماتی ہیں دعا کرتے ہوئے اس فقرہ پر آکر میں رک جاتی کہ "ان (ابو سلمہ ) سے بہتر مجھے عطا کر دے " لیکن آنحضرت کی نصیحت کی بدولت اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ ہمت اور توفیق دے دی اور میں نے یہ دعا بھی کی پھر یہ دعا ایک عجیب معجزانہ رنگ میں بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آنحضرت لا علم عطا فرما دیئے۔رسول اللہ صلی علی ایم کے ساتھ شادی 4ھ میں حضرت ام سلمہ کی عدت گزر جانے کے بعد حضور علی کریم نے انہیں شادی کا پیغام بھجوایا۔حضرت حاطب بن ابی بلتعہ حضور میں تم کا یہ پیغام لے کر حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے اپنی بعض مجبوریوں کا ذکر کیا کہ اوّل تو میں ایک عیالدار عورت ہوں۔میرے ساتھ چار بچے ہیں۔حضور جیسے معمور الاوقات وجود کے عقد میں آکر میں ان کے لئے پریشانی کا موجب ہی نہ بن جاؤں۔دوسرے یہ کہ میں بہت غیور عورت ہوں۔حضور صلی نیلم کے حرم میں پہلے سے متعدد ازواج ہیں۔مجھے ڈر ہے کہ میں دیگر ازواج کے ساتھ غیرت کا کوئی ایسا نا مناسب اظہار نہ کر بیٹھوں جو حضور علی لیا کہ یتیم کے لئے تکلیف کا موجب ہو۔تیرے میرا کوئی بالغ ولی اس موقع پر موجود نہیں جو میرا نکاح کر سکے۔حضرت عمرؓ کو حضرت ام سلمہ کے اس جواب کا پتہ لگا تو انہوں نے اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا اے ام سلمہ ! کیا آپ آنحضور کا پیغام رڈ کرو گی؟ حضرت ام سلمہ نے پھر اپنی مجبوریاں دہرادیں جن کے جواب میں آنحضرت علی ہم نے یہ تسلی بخش پیغام حضرت ام سلمہ کو بھجوایا کہ جہاں تک تمہاری عیالداری کا تعلق ہے اللہ تعالی اور اس کار سول تمہارے بچوں کی کفالت کے ذمہ دار ہیں۔باقی جہاں تک تمہاری طبعی غیرت کا تعلق ہے ہم دعا کریں گے کہ اللہ تعالی آپ کی ناواجب غیرت دور کر دے۔رہی یہ بات کہ آپ کا کوئی ولی موقع پر موجود نہیں تو خاطر جمع رکھیں کہ یہ نکاح تمہارے اولیاء میں سے کسی کو بھی برا نہیں لگے گا اور سب اسے بخوشی قبول کریں گے۔باقی ولایت نکاح اور ایجاب و قبول کے لئے تو تمہارا کم سن بیٹا بھی کافی ہے۔حضرت ام سلمہ نے ایک عذر یہ بھی پیش کیا کہ شادی کی عمر کے لحاظ سے میں ایک عمر رسیدہ عورت ہوں۔رسول کریم ملی تم نے فرمایا کہ میری نسبت پھر بھی تمہاری عمر کم ہے اس وقت رسول اللہ علیم کی عمر قریباً 57 برس تھی۔0 18