اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 122
ازواج النبی 122 ย حضرت ام سلمہ ایک دفعہ گھریلو ماحول میں میری ابو سلمہ سے یہ بات ہوئی کہ کہتے ہیں اگر میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہو جائے اور وہ جنتی ہو اور بعد میں اس کا ساتھی شادی نہ کرے تو وہ جنت میں اکٹھے ہوتے ہیں۔کیا آپ معاہدہ کرتے ہو کہ ہم دونوں میں سے اگر کوئی پہلے فوت ہو جائے تو جو پیچھے رہ جائے گا وہ شادی نہیں کرے گا۔حضرت ابو سلمہ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا کہ پہلے تم بتاؤ کہ کیا تم اس کے لئے تیار ہو کہ اگر میں پہلے فوت ہو جاؤں تو تم بعد میں کسی سے نکاح نہیں کرو گی۔انہوں نے کہا کہ میں تواز خود یہ تجویز بہت سوچ سمجھ کر دے رہی ہوں کہ آپ کی وفات کے بعد میں نکاح نہیں کروں گی۔خواہ آپ کی خاطر بیوگی کا لمبازمانہ ہی کیوں نہ کاٹنا پڑے۔ابو سلمہ نے کہا تو پھر سُنو معاہدہ یہ ٹھہرا کہ اگر پہلے میں مر جاؤں تو تمہیں لازمآًنکاح کرنا ہو گا۔تمہارے بعد میں نکاح کروں یا نہ تمہیں ضرور شادی کرنی ہو گی۔پھر انہوں نے یہ دُعا کی کہ اے اللہ ! اگر پہلے میری وفات ہو جائے تو ام سلمہ کو مجھ سے بھی بہتر شخص عطا فرمانا، تا کہ اسے کوئی پریشانی اور تکلیف نہ ہو ، اور وہ اسے بہت آرام سے رکھے۔حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ابو سلمہ فوت ہوئے تو آنحضرت لعل یا تم نے مجھے خاص طور پر صبر کی نصیحت کی۔حالانکہ میں نے اس وقت یہ سوچا تھا کہ ہم ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ آئے ہیں۔یہاں غریب الوطنی کی حالت میں میرے شوہر کی وفات ہو رہی ہے۔میں ابو سلمہ کا ایسا بین کرونگی جو دنیا ایک زمانے تک یادر کھے گی کہ کسی بیوی نے شوہر کی وفات پر بین کئے تھے ، اس کے لئے میں نے اپنی ایک سہیلی کو بھی کہہ رکھا تھا کہ تم بین کرنے میں میری مدد کرنا اور وہ بے چاری میری خاطر آ بھی گئی مگر ادھر آنحضرت علی یا تم نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ام سلمہ ! کیا تم اس شیطان کو اپنے گھر میں داخل کرو گی جسے اللہ تعالی نے نکالا ہے؟ یہ بات آنحضرت علی علیہ ہم نے دو مرتبہ دوہرائی جس پر حضرت ام سلمہ نے سب رونا دھونا ایسے بند کیا کہ پھر نہیں روئیں۔حضور علی نے مزید فرمایا کہ کسی بھی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اس پر صبر کرتے ہوئے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہے۔( یعنی ہم اللہ کے ہی ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) اور پھر اس کے بعد یہ دعا کرے کہ اللَّهُمَّ أُجْرُنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفُ لِي خَيْرًا مِنْهَا۔یعنی اے اللہ میری اس مصیبت میں میرے صبر کا اجر مجھے عطا کرنا۔اور اس سے بہتر بدلہ مجھے دینا، تو اللہ تعالی غیر معمولی طور پر اسے بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔