اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 91
ازواج النبی 91 حضرت عائشہ حضرت عائشہ تنہا وہ پہلی کنواری خاتون ہیں جو رسول اللہ ی ی ی یتیم کے عقد میں آئیں۔دیگر ازواج سے بیوگی یا طلاق کے بعد آپ کا نکاح ہوا، سوائے حضرت ماریہ کے۔تاہم حضرت عائشہ کے نکاح سے تعدد ازدواج کا سلسلہ شروع ہوا۔اس لئے یہاں اس بارہ میں مختصر وضاحت مناسب ہو گی۔اسلام میں تعدد ازدواج کا انتظام یا سہولت کسی حکم یا قاعدہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک استثناء ہے۔جس کی اجازت نکاح کے اغراض کے حصول اور نسل انسانی کی جائز ضروریات پورا کرنے کیلئے خاص حالات میں دی گئی ہے اور اسے اس شرط کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے کہ اگر انسان عدل کرنے کے قابل ہو سبھی وہ تعددِ ازدواج کرے۔ورنہ ایک بیوی پر اکتفاء کرے اور پھر اسلام کی طرف سے یہ رخصت ان حالات میں دی گئی جبکہ عربوں میں تعدد ازدواج کی کوئی حد بندی نہیں تھی۔ہر شخص جتنی مرضی بیویاں رکھ سکتا تھا۔اسلام نے اس کو ضرورت کی بنیاد پر اور عدل کی شرط کے ساتھ صرف چار تک محدود کر دیا۔جہاں تک آنحضرت علیم کے تعدد ازدواج کا تعلق ہے بطور ایک مذہبی راہنما اور لیڈران کے اغراض اور مقاصد خالصتادینی تھے۔مثلاً یہ کہ آپ کے عملی نمونہ کے ذریعے عربوں کی جاہل رسومات کا خاتمہ ہو۔اسی طرح حضرت زینب بنت جحش سے نکاح کے ذریعے متبنی کی رسم کا خاتمہ ہوا۔ایک بڑا مقصد مسلمان عورتوں کی تعلیم و تربیت بھی تھا۔کیونکہ آنحضرت علی ایم کے ذریعے ایک نئے قانون اور تہذیب و تمدن کی بنیاد پڑنی تھی۔اگر نبی کریم التی یا یتیم کی شادیاں نفسانی اغراض کی خاطر ہو تیں تو آنحضرت طلیلی یا تم ادھیڑ عمر ، بیوہ اور مطلقہ عورتوں سے نکاح نہ کرتے۔جیسے حضرت ام سلمہ نے خود شادی کے وقت عمر رسیدگی کا عذر بھی کیا۔پھر جس کنواری خاتون سے شادی ہوئی اور جس کی باری نویں دن آتی تھی اسکا بیان کردہ یہ واقعہ سن کر غور کیجئے کہ کیا یہ شادی محض نفس پرستی کیلئے شمار ہو سکتی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ رسول کریم کی کوئی بہت پیاری اور خوبصورت کی بات سنائیں۔حضرت عائشہ نے فرمایا ان کی تو ہر ادا ہی پیاری تھی۔ایک رات میرے ہاں باری تھی۔آپ تشریف لائے اور میرے ساتھ بستر میں داخل ہوئے۔آپ کا بدن میرے بدن سے چھونے لگا۔پھر فرمانے لگے اے عائشہ ! کیا آج کی رات مجھے اپنے رب کی عبادت میں گزارنے کی