آغاز رسالت

by Other Authors

Page 10 of 23

آغاز رسالت — Page 10

ا۔آپ تنہا بیٹھنا پسند فرماتے۔گھر میں تو کوئی نہ کوئی بات ہوتی رہتی ہے۔شہر میں گہما گہمی رہتی ہے۔گلی کوچوں میں آنا جانا اور شور شرابا ہوتا ہے۔آپؐ کو ان رونقوں سے زیادہ لچسپی اُن نئی نئی باتوں میں تھی جو اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھا رہا تھا۔قدرت نے گویا ایک سکول کھول دیا تھا۔زمین و آسمان کی حقیقتوں سے پر دے اُٹھ رہے تھے۔ہر دن ہر رات راز فطرت زیادہ کھل کر سامنے آنے لگا۔ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی کڑی ملنے لگی۔ہر نیا انکشاف خدائے واحد کی طرف اشارہ کرتا۔معبود حقیقی کو پہچاننے اور جاننے کی لذت ایسا نشہ تھا جس میں آپ زیادہ سے زیادہ ڈوب جانا چاہتے تھے۔دنیا اور دنیا کی دلچسپیاں آپ کی نگاہوں میں بے حقیقت ہوتی جا رہی تھیں۔آپ الگ تھلگ ہو کر اپنے معہود کی یاد میں وقت گزارنا پسند فرماتے۔مکہ کی بستی سے ذرا فاصلے پر کوہ حرا پہ ہے۔جاتے ایسی تنہائی کی تلاش میں جہاں صرف آپ ہوں اور آپ کا معبود - آپ کو اس پہاڑ پر ایک فارمل گئی۔اس غار میں آپ کو وہ خاموشی اور تنہائی مل گئی جس کی آپ کو تلاش تھی۔مکہ سے منی کی طرف جاتے ہوئے کوہ حرا پر چڑھیں تو اس کی بلندی تک چڑھ کر دوسری طرف انتہ کہ یہ ایک چھوٹی سی غار ہے جس میں ایک آدمی پورے قد سے کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔دو بڑی بڑی چٹانیں آپس میں اوپر سے اس طرح مل گئی ہیں کہ ہٹ HUT کی شکل کی چھت بن گئی ہے۔فرش ظاہر ہے پتھروں کا بنے۔کوئی آرام دہ بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔مگر آپ کو آرام اپنے محبوب خدا کی یاد میں ملتا تھا۔آپ یاد الہی میں اس قدر کھو جاتے کہ وقت گزرنے کا بھی احساس نہ ہوتا۔حضرت خدیجہ نے آپ کی محویت کو کو دیکھا تو حسن تدبر سے گھر کی ہر ذمہ داری سے آپ کو سبکدوش کر دیا۔آپ کے غار حرا میں قیام کا عرصہ طویل ہونے لگا تو آپ ایسا کھانا تیار کر کے ساتھ کر دیتیں جو زیادہ دیر