آغاز رسالت

by Other Authors

Page 9 of 23

آغاز رسالت — Page 9

جاتے۔اُن کے نام کے کھانے پکتے سب بانٹ بانٹ کر کھاتے مگر آپ ایسے کھانوں کو ہاتھ بھی نہ لگاتے شراب حرام ہونے کا حکم تو آپ کی نبوت کے بعد آیا تھا مکہ کے - لوگ پانی کی طرح شراب پیتے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ نے خود نخود آپ کے دل میں اُس گندی چیز کے لئے نفرت ڈال دی۔آپؐ نے کبھی شراب نہ پی تھی۔(سیرت المجیبہ باب ما حفظه الله) آپ کا دل اتنا پاک تھا کہ آپ فطری طور پر نیک باتوں کو پسند فرماتے۔مکہ میں عورتوں کی عزت نہیں کی جاتی تھی۔غریبوں کے حق مار کہ اُس پر فخر کیا جاتا۔بیماروں اور ناداروں کی خدمت کرنا بے کار کام سمجھتے۔جبکہ آپ کو سب انسانوں سے خاص طور پر اُن بے چاروں سے جو کسی کھہ میں مبتلا ہوں۔زیادہ ہمدردی ہوتی۔آپ کسی کو تکلیف میں دیکھ ہی نہیں سکتے تھے۔کوشش فرماتے کہ آپ کی ذات سے دوسروں کو آرام پہنچے۔آپ لوگوں کی بے حسی پر غمزدہ ہو جاتے اور ایسے طریقے سوچتے جن سے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح ہو سکے۔جاتے اور ایسے طریقے سوچتے جن سے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح ہو سکے۔اُن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی پیدا ہو اور ایک بلند تمر وجود کا خوف ہو کہ اگر برائی کریں گے تو پکڑ بھی ہو گی سزا بھی ملے گی۔بلند ہستی یعنی خدا تعالیٰ نے یہ دنیا کیوں پیدا کی یہ سورج چاند ، ستارے سارا نظام کیوں بنایا۔دن اور بات کہنے ، یا۔پنے کس لئے ہے۔کس کے لئے بنے جس نے یہ سب کچھ بنایا ہے۔اُس سے تعلق کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے۔اس سے پوچھا جائے کہ بندے آپس میں پیار سے کیسے رہ سکتے ہیں۔آپ ہر وقت غور و فکر میں رہتے۔اور دعائیں کرتے کہ معبود مجھے سیدھا راستہ دکھا ان دعاؤں اور ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات پر سوچنے کے لئے