عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 87

اسلام مذهبی تعلیمات کا منتهی 87 یہ آیت صراط مستقیم کے معانی پر ایک نئے رنگ میں روشنی ڈال رہی ہے۔یعنی صراط مستقیم درمیانی راہ ہونے کے علاوہ استقلال اور ثابت قدمی کی صفت بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔مثلاً اِسْتَقَامَ زید کے معنی ہیں کہ زید گرائے جانے اور غیر متوازن کرنے کی تمام تر کوششوں کے خلاف ڈٹا رہا“ جبکہ قام سے مراد صرف سیدھا کھڑارہنا ہے۔قام اور اِسْتَقَامَ کا مصدر تو ایک ہی ہے لیکن جب قَامَ کے شروع میں ”است“ کا اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کے بنیادی معنوں میں ایک نئے مفہوم کا اضافہ ہو جاتا ہے یعنی قدم اکھاڑنے اور غیر متوازن کرنے کی تمام بیرونی کوششوں کے باوجود ثابت قدم رہنا اور تمام تر مخالف حالات کے باوجود پورے استقلال سے اپنے عقائد پر مضبوطی سے جمے رہنا۔پس دشمن کے حملے جو صراط مستقیم سے ہٹانے کیلئے ہیں، کے مقابل پر مسلمانوں کو کہا گیا کہ وہ یہ دعا کرتے رہیں کہ انہیں صراط مستقیم پر قائم رہنے کی طاقت ملتی رہے۔پس صراط مستقیم ایسی راہ ہے جسے لوگ ٹیڑھا کرنے کی کوشش کریں گے مگر اللہ تعالیٰ نے اس بات کا انتظام فرما رکھا ہے کہ اس راہ میں تبدیلی کی تمام کوششیں بالآخر ناکام ہو جائیں گی۔ہرصدی میں کم از کم ایک بار کسی انہی مصلح کے ذریعہ تجدید دین کا وعدہ اس امر کو یقینی بنا دیتا ہے کہ وقتاً فوقتاً انسانی تحریف اور فطری کمزوریوں کی اصلاح ہوتی رہے گی۔وسطاً کے حقیقی معنی یہی ہیں کہ جیسے اسلام کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کی کبھی اور جانبداری سے پاک ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اور تعلیم بھی سیدھی اور جانبداری سے پاک ہے۔یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ صراط مستقیم کا تصور بھی مذہب میں بتدریج وسعت پذیر ہوا ہے اور اس نے مختلف ادوار میں سے گزر کر انسانی ارتقا کے ساتھ ساتھ ترقی کی ہے۔اسلام سے پہلے مذاہب میں بھی صراط مستقیم کی اصطلاح پائی جاتی ہے، مثلاً مذکورہ بالا آیت کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مذہب کو صراط مستقیم قرار دیتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کی طرف بھی یہی بات منسوب کرتے ہیں اور خود کو ان کی تعلیم سے ہم آہنگ بیان فرماتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صراط مستقیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صراط مستقیم میں فرق کیا تھا ؟ در اصل فرق صرف درجے کا ہے اگر چہ مذہب کے آغاز سے ہی انسان کو صراط مستقیم پر چلایا گیا ہے لیکن اسلام سے پہلے کے تمام مذاہب مخصوص زمانے اور مخصوص قوم کیلئے آئے تھے۔ان میں سے کوئی مذہب بھی عالمگیر نہیں تھا۔چنانچہ ان کیلئے صراط مستقیم کی اصطلاح کا اطلاق بھی مخصوص زمانی اور قومی تقاضوں کے مطابق کیا گیا چنانچہ الہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: