عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 81

مذهب کی تشکیل میں تین تخلیقی اصولوں کا کردار 81 پڑتی ہے کہ عدل کی تعلیمات کس طرح اپنے ابتدائی مراحل سے ترقی کرتے کرتے کمال تام تک پہنچیں اور جو آگے چل کر اسلامی شریعت کی بنیاد ٹھہر ہیں۔قبل از میں ہم نے حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت کے چار بنیادی اصولوں پر گفتگو کی تھی جن میں ہر شخص کو بنیادی ضروریات زندگی یعنی غذا، پانی ، مکان اور لباس کی ضمانت دی گئی ہے لیکن حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی قوم مادی ترقی اور اعلیٰ تہذیب و تمدن رکھنے کے باوجود اپنی اخلاقی عظمت کھو بیٹھی۔انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی تعلیمات کو رد کر دیا اور اس حد تک ظلم کے مرتکب ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر نے بلا استثناء تمام بدکاروں کو سزادینے کا فیصلہ صادر فرما دیا۔چنانچہ نہ تو کوئی امتیاز روا رکھا گیا اور نہ ہی کوئی عذر قبول کیا گیا اور تمام مکفرین و مکذبین کو ہلاک کر دیا گیا۔ان میں ایک کو بھی نہیں چھوڑا گیا حتی کہ خود اپنے بیٹے کیلئے آپ کی التجا کو بھی قانون عدل کے منافی قرار دے دیا گیا۔خدا تعالیٰ نے عدل کا یہی رستہ اختیار فرمایا تا کہ اس کی بنیاد مضبوط ہو کیونکہ یہی وہ واحد بنیاد تھی جس پر آئندہ اعلیٰ اخلاق کے محل تعمیر ہونے تھے۔حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے تک معاشرے میں عدل کی تعلیم اس مضبوطی سے معاشرے میں قائم ہو چکی تھی کہ کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے عدل کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر کے تمام خزانوں کے امین ہونے کے باوجود اتنا بھی اختیار نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو بلا استحقاق اپنے پاس روک لیں۔موسوی شریعت میں عدل و انصاف پر اس قدر زور دیا گیا کہ احسان اور عفو و درگزر کی اہمیت بظاہر بہت ہی کم دکھائی دیتی ہے۔یہود کو بنی نوع انسان کے ساتھ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کی تعلیم دی گئی۔اس کے برعکس حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو دوسرا گال بھی پیش کر دینے کی تاکید فرمائی۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عدل کی اہمیت اور اپنے حقوق پر زور دیا جبکہ عیسائیت کی تعلیم نے احسان اور ایثار کے جذبے کو اتنا ابھارا کہ دوسری انتہا پر جا پہنچی۔بعض ادوار میں عدل پر زور دیا گیا اور بعض میں عدل کو قربان کئے بغیر احسان پر زور دیا گیا۔تعلیم خواہ کوئی بھی ہو اصول عدل کی خلاف ورزی کہیں بھی نہیں ملتی۔یادر ہے کہ ایثار، عدل کے منافی ہرگز نہیں تاہم احسان کی خاطر دوسروں کے حقوق پامال کرنے کا کسی مذہب میں کوئی تصور نہیں مل وو