عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 76
76 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ عالم آخرت کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ اس جنت سے یکسر مختلف ہے جو حضرت آدم علیہ السلام اور آپ کے پیروکاروں کو عطا کی گئی تھی۔یہ کیسی جنت ہے جس میں کھانے کو صرف اتناہی میسر ہے جس سے بمشکل بھوک مٹائی جا سکے اور جہاں پینے کو سادہ پانی بتن ڈھانکنے کو چند کپڑے اور سر چھپانے کیلئے چھت میسر ہے۔قرآن کریم نے نیک لوگوں کو مرنے کے بعد کسی ایسی جنت کے ملنے کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو کوئی ضرورت پڑی ہے کہ اس جنت کی خاطر دنیا کی خوشیوں اور نعماء سے دست کش ہو جائے۔ترقی یافتہ معاشروں کے پسماندہ ترین لوگ بھی اس سے کہیں بہتر جنت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جس قسم کی جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کو نکالا گیا تھا۔ہمیں یہ یقین کرنے میں بڑا تامل ہے کہ کٹر ملاؤں کو ایسی جنت کی خواہش ہوگی جہاں ایک بے کس لا چار عورت ہو اور ایک تنہا شجر ممنوعہ اور اسی قبیل کے کچھ اور پھلدار پودے بھی موجود ہوں لیکن ساتھ ہی کافی تعداد میں سانپ بھی موجود ہوں۔مناسب لباس کا وعدہ بھی ایفا ہوتا نظر نہ آئے جب آدم علیہ السلام اور حوا آنکھ کھلنے پر خود کو برہنہ دیکھیں۔نہ تن ڈھانکنے کو کپڑے ہوں ، نہ سر چھپانے کیلئے چھت ستر پوشی کیلئے محض جنت کے نہ درخت کے کچھ پتے ہوں! کیا کوئی نیک انسان ایسی شاندار جنت میں داخل ہونے کی تمنا کر سکتا ہے؟ افسوس! کہ وہ سمجھتے نہیں۔یقیناً یہ وہ جنت تو نہیں جس کا قرآن کریم نے مومنوں سے نیک اعمال اور قربانیوں کے بدلے آخرت میں بطور انعام دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔یہ تو اُس اقتصادی تصور پر بھی کوئی فوقیت نہیں رکھتی جسے کارل مارکس نے سائنسی سوشلزم کے فلسفے کی بنیاد پر پیش کیا ہے۔قرآن کریم کے نزدیک یہ وہ پہلا وعدہ ہے جو آدم اور حوا کی کہانی میں انسان کو دیا گیا ہے۔اسے بنیادی انسانی حقوق کا اولین منشور بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔بلکہ یہ تو سائنسی سوشلزم کی جنت ارضی کے تصور سے بھی بڑھ کر ہے۔اشترا کی فلسفے کا بغور مطالعہ ہمارے اس نقطہ نظر کی بھر پور تائید کرتا ہے کہ مارکسزم اور لینن ازم محض تین بنیادی حقوق تک ہی محدود ہیں اس سے زیادہ ان میں کچھ بھی نہیں، باقی سب کچھ اختیاری ہے جو مہیا کیا بھی جاسکتا ہے اور نہیں بھی۔سائنسی سوشلزم محض غذا، چھت اور لباس کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔قرآن کریم کا پیش کردہ اقتصادی عدل کا بنیادی تصور اشترا کی آئیڈیل سے وسیع تر ہے۔اشتراکی معاشروں میں غالباً اس غلط خیال کی وجہ سے پانی کی ضمانت نہیں دی گئی کہ یہ کوئی زیادہ اہم بات نہیں ہے۔ماہرین کے پیش کردہ حقائق اور اعداد و شمار ایک بالکل مختلف کہانی بتاتے ہیں جن کے