عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 51

انسانی جسم کا اندرونی توازن 51 ضرورت نہیں۔انسولین کو بے اثر کرنے والی رطوبت بھی انہیں غدودوں میں پیدا ہو رہی ہوتی ہے جہاں انسولین پیدا ہوتی ہے۔جسم جب یہ رطوبت خارج کرتا ہے تو انسولین کی پیداوار فور ارک جاتی ہے اور انسان مکمل سیری کی کیفیت محسوس کرتا ہے۔تو ازن کسی بھی لحاظ سے بگڑ جائے صحت پر اس کے بداثرات مترتب ہوں گے۔انسولین اور اس کا توازن قائم رکھنے کیلئے قدرت نے جو انتظام کر رکھا ہے اس کی کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔انسولین کے علاوہ بعض دیگر کمیاب عناصر بھی اس پیچیدہ نظام کی معاونت کرتے ہیں۔دراصل خون میں موجود ہر خلیہ کو توانائی درکار ہوتی ہے اور اس توانائی کے استعمال کے بعد فاضل مادوں کو جسم سے خارج کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ قدرت نے ایسا انتظام کر رکھا ہے جس کے ذریعے فاضل اور زہریلے مادے باہر پھینک دیئے جاتے ہیں۔مذکورہ بالا تمام افعال خون کی گردش کے ذریعے ہی سرانجام دیئے جاتے ہیں یہ نظام اپنے اندر بے شمار عجائبات رکھتا ہے لیکن یہ خود کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔خون میں پائے جانے والے مختلف قسم کے خلیات جس مائع میں تیرتے ہیں اگر اسے ان خلیات کے اندر آنے دیا جائے تو یہ ان کے نیوکلیس کو فوری طور پر تباہ کر سکتا ہے۔اس ممکنہ خطرہ سے نمٹنے کیلئے ہر خلیہ ایک دُہری تہ دار جھلی میں لپٹا ہوتا ہے جو اس کیمیائی محلول کو براہ راست خلیہ میں جذب ہونے سے روکتی ہے۔یوں یہ دُہرے غلاف والی جھلی خلئے کو کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچاتی ہے۔دونوں جھلید دوں میں بعض ایسے مسام پائے جاتے ہیں جن میں سے شکر کا مالیکیول اور اس سے جڑا ہوا انسولین کا مالیکیول گزر کر خلئے کے مرکز تک جا پہنچتا ہے جہاں اسے فوراً ہی استعمال کر لیا جاتا ہے۔فاضل مادے انہی جھلیوں کے مساموں کے ذریعے واپس خون میں شامل ہو جاتے ہیں جو پھر جلد پر پسینے کی صورت میں یا گردوں وغیرہ کی انتہائی پیچیدہ لعاب دار جھلیوں کے ذریعے خارج کر دیئے جاتے ہیں۔خلئے میں شکر کا انجذاب اور فاضل مادوں کا اخراج نا قابل یقین تیز رفتاری سے ہوتا ہے۔یہ توانائی کی نقل و حمل کا نظام ہے لیکن اسی پر بس نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔انسانی جسم کے ہر عضو کو بشمول ان خلیات کے جو خون میں موجود ہیں اپنی بقا کیلئے ایک معین مقدار میں شکر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہاں بھی ترجیحات مقرر ہیں۔دماغ کو دیگر تمام جسمانی اعضا پر ایک فوقیت حاصل ہے۔اگر خون میں شکر کی سطح گر بھی جائے تو دماغ کو کسی نہ کسی طرح شکر کی مسلسل فراهمی از بس ضروری ہے تاوقتیکہ جسم میں شکر کا ذخیرہ ختم نہ ہو جائے۔چنانچہ اگر انسانی جسم