عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 255
رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم 255 مغربی دنیا عموماً اس خرابی کو اس لئے سمجھ نہیں سکتی کہ ان کے ہاں وسیع برادری سے میل جول کا رواج ہی نہیں رہا۔بسا اوقات نہ پڑوسی کا پتہ ، نہ دوسرے رشتہ دار کا پتہ سوائے چند ایک کے۔قرآن ان بیماریوں کو بھی نظر انداز نہیں فرماتا اور ان کی اصلاح کے ذرائع بھی تجویز فرماتا ہے اس لئے میں نے قرآنی تعلیم کی روشنی میں اقرباء کے حقوق کا ایک الگ عنوان باندھا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے: فَاتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ذَلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَدَ اللهِ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) (الروم 39:30) ترجمہ: پس اپنے قریبی کو اس کا حق دو نیز مسکین کو اور مسافر کو۔یہ بات ان لوگوں کیلئے اچھی ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔یہ ان لوگوں کیلئے بہت ہی حسین تعلیم ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے چہرہ پر نظر رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان سے کیسا سلوک کرتا ہے، ان سے خوش ہے یا ناراض ہے۔فرمایا :- جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہی ہیں جو نجات یافتہ ہیں۔پھر فرمایا: وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا قَ بِذِي الْقُرْبى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ) ( النساء 37:4) ترجمہ: اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یقینا اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر (اور ) شیخی بگھارنے والا ہو۔