عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 254

254 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربى - حصه چهارم اپنی اولاد کے ساتھ عزت کا سلوک کیا کرو۔پس قرآن کریم کا مقصد یہ ہے کہ یتیموں سے واقعہ اپنی اولاد کی طرح سلوک کرو۔یہ تعلیم عدل سے بڑھ کر احسان میں داخل ہو جاتی ہے۔اس آیت کے بعد کی آیات میں بعض دیگر مہلک بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔پس قرآن کریم ایک ایسی کتاب حکیم ہے جو ہر بیماری کو بڑی تفصیل سے کھول کھول کر بیان کرتی ہے اور پھر اسکے علاج کی بھی نشاندہی فرماتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ارَعَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِيْنِ فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُ الْيَتِيمَ ( الماعون 2,3:107) کیا تم نہیں جانتے کہ وہ کون لوگ ہیں جو دین کو جھٹلاتے ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جو یتیم کو دھتکارتے ہیں؟ بالآ خر وہ دین کو بھی رڈ کر دیتے ہیں۔یتامی کے متعلق آنحضرت ﷺ کا طرز عمل : اب میں آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس سے آپ کو یتامی کے متعلق آنحضرت ﷺ کے طرز عمل کا علم ہو جائے گا اور یہ بھی علم ہوگا کہ اس سلسلہ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی کے نتیجہ میں آپ کو کتنا بڑا ثواب نصیب ہوگا۔حضرت سہیل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی دیکھ بھال میں لگارہنے والا شخص جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے۔آپ نے وضاحت کی غرض سے اپنی انگشت شہادت یعنی شہادت کی انگلی کو اور درمیانی انگلی کو یوں جوڑ دیا اور اس طرح جوڑا کہ درمیان میں کوئی فاصلہ نہ رہا۔(4 ہم جب دنیا کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں تو ہر گز یہ مقصد نہیں کہ گویا ہم اپنی تعداد بڑھا ئیں ہمیشہ اس بات پر نظر ہونی چاہئے کہ ایک سچائی ہے اس سے دنیا محروم ہے اور یہ ایک نعمت ہے، اس سے محرومی کے نتیجہ میں دنیا مصیبتوں میں مبتلا ہے مگر افسوس کہ وہ مقابل پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور نہیں جانتے کہ خود انکی بھلائی کی خاطر یہ نصیحت کی جارہی ہے۔اقرباء کے حقوق: (74) اہل وعیال اور یتامیٰ کے حقوق کے علاوہ قرآن قریبی رشتہ داروں کے حقوق پر بھی نظر رکھتا ہے۔عموماً تو یہ ہوتا ہے کہ اقرباء سے حسن سلوک کی بجائے خاندانی رقابتوں کی وجہ سے نا انصافیاں ہو جاتی ہیں۔اس کو پنجاب میں شریک “ کہا جاتا ہے۔اپنے قریبیوں کو اونچا اٹھانے کی بجائے انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔