عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 244
244 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربى - حصه چهارم ہے، وہ اس مضمون کا پورا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔آنحضور ﷺ نے قرآن کریم کی اس تعلیم کو واضح فرمایا کہ اولاد پر ماں باپ کا یہ حق ہے کہ اگر وہ دین دار رہ جائیں کسی کے قرض دینے ہوں اور اس کے ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائیں تو اولاد کا فرض ہے کہ ان قرضوں کو اتارنے کی کوشش کریں۔افسوس ہے کہ آجکل کے معاشرہ میں مرحوم باپ کے قابل ادا قرضوں کی بالعموم پرواہ نہیں کی جاتی۔بعض بچے تو قرض خواہ کے مطالبے کے جواب میں بدتمیزی اور تمسخر سے یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جاؤ اسی سے وصول کرو جس نے قرض دینا تھا ، ہم دین دار نہیں۔آنحضور ﷺ کی مذکورہ بالا تعلیم کے یہ سراسر منافی ہے۔ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ کی غیر موجودگی میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا، انہوں نے حضور اکرم سے عرض کیا کہ میری والدہ کی میری عدم موجودگی میں وفات ہوگئی ہے اگر میں کوئی چیز ان کی طرف سے صدقہ میں دوں تو کیا اس امر سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے گا ؟ فرمایا ہاں۔عرض کیا کہ پس میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا افلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔وفات یافتہ والدین کیلئے استغفار: (65) سنن ابن ماجہ میں ایک حدیث حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا کہ جنت میں ایک شخص کے درجات بلند کئے جائیں گے تو وہ پوچھے گا کہ یہ درجات کس صلہ میں ہیں تو اسے کہا جائے گا کہ تمہارے بچے تمہاری وفات کے بعد تمہارے لئے استغفار کرتے تھے۔(66) گویا یہ کامل اطمینان بھی دلا دیا کہ تم جو ماں باپ کیلئے ان کی وفات کے بعد ان کی بھلائی کی کوشش کرو گے، وہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی۔صرف جذباتی کوشش نہیں ہوگی بلکہ خدا تعالیٰ اس کا فائدہ ان کو اخروی دنیا میں پہنچائے گا۔اولاد کے والدین پر حقوق: ماں باپ کے حقوق کے علاوہ اولاد کے حقوق کا بھی قرآن کریم نے تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اور تمام بنیادی اصولی امور کو کھول کھول کر پیش فرما دیا ہے۔فرمایا ہے: قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَها بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللهُ افْتِرَاء عَلَى اللهِ (الانعام 141:6)