عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 243
رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم 243 کھڑے ہونے والے۔میں خدا کی مانوں گا اور تمہاری نہیں مانوں گا۔یہاں یہ بھی مضمون سکھا دیا کہ ہمیشہ تمہارا یہ طرز عمل رہنا چاہیے کہ جو بات تمہارے علم کے قطعی خلاف ہے اسے عدم علم کی وجہ سے تسلیم نہ کرو۔(63) حضرت سعد بن ابی وقاص بیان فرماتے ہیں کہ میں اپنی مشرک والدہ کے ساتھ ہر جہت سے حسن سلوک کیا کرتا تھا جب میں اسلام لے آیا تو انہوں نے کہا سعد ! تو نے یہ کیا دین اختیار کرلیا ہے تمہیں اس دین کو چھوڑنا ہوگا ورنہ میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی حتی کہ مرجاؤں گی اور لوگ تمہیں میری موت کا طعنہ دیں گے۔سعد نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ اے ماں تم اگر ایسا کرو گی بھی تو میں اپنے دین کو ترک نہیں کروں گا۔مگر ان کی والدہ نے ایک دن رات نہ کچھ کھایا نہ پیا اور سخت تکلیف اٹھائی اس پر سعد کہنے لگے میں نے ان سے کہا وَاللهِ لَوْ كَانَتْ لَكِ مِائَةُ نَفْسِ فَخَرَجَتْ نَفْساً نَفْساً مَاتَرَكْتُ دِينِي هَذَا لِشَيْءٍ۔کہ اے میری پیاری ماں اللہ کی قسم اگر تیری ایک سو جانیں بھی ہوں اور ایک ایک کر کے میرے سامنے نکلیں تو بھی میں اپنے دین کو ترک نہیں کروں گا۔اس کا یہ عزم دیکھ کر ماں نے پھر کھانا پینا شروع کر دیا۔(3 والدین کی وفات کے بعد بھی ان سے حسن سلوک جاری رکھنے کی حسین تعلیم : ابواسید بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ بن سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! والدین کے ساتھ حسن سلوک کے باب میں کیا کوئی طریق باقی رہ گیا ہے کہ جس کے ذریعہ میں ان کے ساتھ ان کی وفات کے بعد بھی حسن سلوک کر سکوں۔فرمایا ہاں۔ان دونوں کے لئے دعا اور استغفار اور ان کی وفات کے بعد ان کے وعدوں کی پاس داری کرنا اور ان دونوں کے دوستوں کی عزت اور تکریم اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرنا جن سے تمہارا تعلق اور صلہ ان دونوں کے واسطہ سے ہو۔) اب دیکھئے احسان اور ایتا ء ذی القربی کے مضمون کو کتنی بلندی تک پہنچا دیا ہے۔اس سے پہلے زندہ والدین کے بارہ میں تعلیم گزر چکی ہے۔اب ان کی وفات کے بعد حسن سلوک جاری رکھنے (64) سے متعلق تعلیم کا ذکر ہے۔فرمایا کہ ماں باپ کی تم جتنی چا ہو خدمت کرلو۔احسان کا بدلہ تو نہیں اتارسکو گے، ان کا احسان تو پھر بھی غالب رہے گا۔اب دل کی اس خلش کو دور کرنے کیلئے کہ جب تک والدین زندہ رہے، ہم ان کی پوری خدمت نہیں کر سکے ، اس سلسلہ میں آنحضور ﷺ کی جن نصائح کا ذکر گزرا