عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 239

رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم 239 اپنے باپ کے خلاف باتیں کیں اور کہا کہ میرا باپ ایسا ویسا ہے اور میری ساری جائیداد کو اپنے تصرف میں لا رہا ہے۔باپ بھی وہیں موجود تھا۔بیٹے نے کہا یا رسول اللہ ! اس کو منع فرما ئیں میرے معاملات میں دخل نہ دیا کرے۔باپ خاموش رہا۔ایک لفظ نہیں بولا۔آنحضور ﷺ نے اس کی آنکھوں میں غم دیکھا اور اس سے پوچھا کہ بات کرو، اپنے دل کی بات تو بتاؤ کہ کیا کہتے ہو۔اس نے عربی کے کچھ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ یا رسول اللہ ! جب یہ بچہ تھا اور اس کی ٹانگوں میں طاقت نہیں تھی کہ یہ چل سکے میں نے اس کو گودیوں میں اٹھایا اور گودیوں میں اٹھا کر جگہ جگہ پھرا۔یہ جب چھوٹا تھا اور اس کو بھوک لگتی تھی اس میں اتنی بھی طاقت نہیں تھی کہ پاس پڑے ہوئے دودھ کو اٹھا کر پی سکتا میں اسے دودھ پلایا کرتا تھا۔یارسول اللہ ! اس کی کلائیاں نازک تھیں ان میں اپنے دفاع کی کوئی طاقت نہیں تھی یہ میری کلائیاں تھیں جنہوں نے اس کا دفاع کیا اور پھر میں نے اس کو تیر اندازی سکھائی اور میرے آقا! اب جبکہ یہ تیراندازی سیکھ چکا ہے میرے پر ہی تیر چلا رہا ہے۔آنحضرت ﷺ یہ بات سن کر شدت جذبات سے مغلوب ہو گئے اور اس بیٹے کوگریبان سے پکڑا اور فرمایا: جاتو اور جو کچھ تیرا ہے تیرے باپ کا ہے۔اس تعلیم سے بے بہرہ ہونے کے نتیجہ میں ترقی یافتہ معاشروں میں اتنا دکھ پھیلا ہوا ہے کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔وہ کتا بیں مطالعہ کریں جن میں ایسے ذکر ملتے ہیں۔آپ یہ معلوم کر کے دکھ محسوس کریں گے کہ جب ماں باپ بوڑھے ہو جائیں اکثر انہیں بوڑھے لوگوں کی رہائش کے گھروں میں بھجوا دیا جاتا ہے اور سوائے کبھی کبھار کے ان کے بچے ان سے ملنے نہیں آتے۔بہت سے بوڑھے تنہائی سے تنگ آکر خود کشیاں کر لیتے ہیں بعض پاگل ہو جاتے ہیں۔کوئی ان کا پوچھنے والا نہیں ملتا۔کبھی کوئی بچہ اسے پوچھنے اگر اس کے پاس پہنچ بھی جائے تو بوڑھے والدین اس تعجب سے کہ وہ ان کو پوچھنے آ گیا ہے، اپنے آپ کو زیرا احسان سمجھتے ہوئے اس کی تعریفیں کرنے لگتے ہیں۔مغرب میں سب ایسے نہیں ہیں بلکہ اسی مغرب میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو ماں باپ کے حقوق ادا کرتے ہیں۔لیکن والدین سے نا انصافی کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس نے سارے معاشرہ کو گندہ کر دیا ہے۔یہ بیماری اتنی پھیل گئی ہے کہ اس مضمون میں تحقیق کرنے والے اب یہ پیشگوئی کر رہے ہیں کہ اب دن بہ دن یہ بیماری بڑھتی چلی جائے گی اور انگلستان کے ایک اندازہ کے مطابق اگلی صدی میں ایسے ماں باپ جن کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہو چکی ہوگی وہ تنہائی کی زندگی میں جلتے کڑھتے جس طرح بھی ان سے ہو سکا زندگی کے باقی دن گزارنے کی کوشش کریں گے۔