عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 13

تین بنیادی تخلیقی اصول 13 پس حیوانی زندگی میں چونکہ نہ کوئی ذمہ داری ہے اور نہ ہی ضابطہ حیات، اس لئے حیوانات سے تعلق رکھنے والی عدل کی تعریف انسانی زندگی سے تعلق رکھنے والے شعبہ عدل کی تعریف سے کلیۂ مختلف ہے۔اسی وجہ سے اس ابتدائی حصہ میں عدل کو قوام اور تعدیل کو تقویم کا نام دیا گیا ہے تا کہ کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہ رہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ تقویم سے مراد وہاں توازن قائم کرنا ہے جہاں ایک جاندار توازن کی ضرورت کے باوجود اس کی اہمیت کو شعوری طور پر سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے۔پس تقویم بہت سے قوانین قدرت کی شکل میں ظاہر ہونے والا خدا تعالیٰ کا وہ فعل ہے جس کی وجہ سے زندگی کی ترقی کا سفر بڑی حد تک راہ اعتدال یعنی صراط مستقیم پر قائم رہتا ہے۔اس سارے سفر میں جس کا آخری مقصود انسان تھا زندگی خدا تعالیٰ کی مشیت کے مطابق تقویم کے رستہ پر گامزن رہی تاکہ اس کا رخ اپنی منزل کی جانب ہی رہے۔ارتقا کے اس طویل سفر میں حاصل ہونے والے بین السطور نتائج ہی ہیں جو اس وقت بھی زندگی کی رہنمائی کرتے ہیں جب وہ انسانی شکل میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔مگر اس کے بعد دیگر عوامل مثلاً ما حول، خاندان اور نسلی اثرات انسان کو اس کے درمیانی رستہ سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس مرحلہ پر ان اثرات کا مقابلہ کرنے کی شعوری کوشش کو قرآن کریم کی اصطلاح میں ” تعدیل“ کہا گیا ہے۔انسان اگر چہ اس منزل تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ شعوری طور پر یہ آزادانہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ راہِ اعتدال پر قائم رہے یا اس سے انحراف کرلے لیکن اس کے باوجود تقویم کا عمل خاموشی سے جاری رہتا ہے اور انسان کو شعوری طور پر اس بات کا علم نہیں ہو پاتا کہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ انسان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کار فرما عمل تقویم میں دخل نہیں دے سکتا البتہ وہ سطحی طور پر اس عمل میں مداخلت کر سکتا ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب وہ جانتے بوجھتے ہوئے یا حادثاتی طور پر اپنی صحت کا خیال نہیں رکھ پاتا۔یہ غفلت یا حادثہ انسان کے کسی اندرونی عضو کے چھوٹے سے حصہ کو نقصان پہنچا کر مجموعی توازن کو بگاڑنے کا باعث بنتا ہے۔اس طرح ایک چھوٹی سی بیماری بھی سارے جسم پر اثر انداز ہو کر خرابی صحت کا موجب بن جاتی ہے۔انسانی بدن میں کارفرما تمام قوانین فطرت اس کی صحت کی حفاظت میں مصروف ہیں اور یہ سب کچھ دورانِ ارتقاء تقویم کے لمبے عمل سے گزرنے کا نتیجہ ہے۔ایک محقق کیلئے ماحولیاتی نظام (ECOSYSTEM) کا مطالعہ، عالم حیوانات میں جاری نظام عدل