عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 210

210 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم پکار کر کہا کہ اے مسلمانو! مجھے محض اسلام قبول کرنے کی وجہ سے یہ عذاب دیا جا رہا ہے۔خدا کیلئے مجھے بچاؤ۔مسلمان اس نظارہ کو دیکھ کر تڑپ اٹھے مگر اس کا باپ یعنی مکہ کا سفیر سہیل بھی اپنی ضد پر صلى الله اڑ گیا اور آنحضرت ﷺ سے کہنے لگا کہ یہ پہلا مطالبہ ہے جو میں اس معاہدہ کے مطابق آپ سے ے کرتا ہوں اور وہ یہ کہ ابو جندل کو میرے حوالہ کر دیں۔آپ نے فرمایا ”ابھی تو معاہدہ تکمیل کو نہیں پہنچا، سہیل نے کہا اگر آپ نے ابو جندل کو نہ لوٹایا تو پھر اس معاہدہ کی کارروائی ختم سمجھیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔آؤ آؤ جانے دو اور ہمیں احسان و مروت کے طور پر ہی ابوجندل کو دے دو سہیل نے کہا نہیں نہیں یہ کبھی نہیں ہوگا۔آپ نے فرمایا سہیل ضد نہ کرو میری یہ بات مان لو سہیل نے کہا میں یہ بات ہر گز نہیں مان سکتا۔اس موقعہ پر ابو جندل نے پھر پکار کر کہا۔اے مسلمانو! کیا تمہارا ایک مسلمان بھائی اس شدید عذاب کی حالت میں مشرکوں کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا؟۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس وقت ابو جندل نے آنحضرت ﷺ سے اپیل نہیں کی بلکہ عامة المسلمین سے اپیل کی جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں خواہ کتنا ہی درد ہو آپ کسی صورت میں معاہدہ کی کاروائی میں رخنہ نہیں پیدا ہونے دیں گے۔آنحضرت ﷺ نے کچھ وقت خاموش رہ کر ابو جندل سے درد مندانہ الفاظ میں فرمایا۔اے ابو جندل ! صبر سے کام لو اور خدا کی طرف نظر رکھو۔خدا تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے دوسرے کمزور مسلمانوں کیلئے ضرور خود کوئی رستہ کھول دے گا۔لیکن ہم اس وقت مجبور ہیں کیونکہ اہل مکہ کے ساتھ معاہدہ کی بات ہو چکی ہے اور ہم اس معاہدہ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے“۔اس معاہدہ پر سرسری نظر سے غور کرنے والا اندازہ ہی نہیں لگا سکتا کہ رسول اللہ کے اس بظاہر دب کر فیصلہ قبول کرنے میں کتنی گہری حکمت تھی اور اس سے کتنا بڑا فائدہ اسلام کو پہنچا ہے۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو مکہ سے بھاگ کر مدینہ جائے گا میں اسے مجبور کروں گا کہ تمہارے پاس واپس جائے۔آپ نے فرمایا کہ ہم اسے مدینہ میں پناہ نہیں دیں گے۔باقی دنیا میں وہ جہاں چاہے اس کے پناہ کے حق کا انکار نہیں فرمایا۔کچھ عرصہ کے بعد اہل مکہ کو محسوس ہو گیا کہ وہ معاہدہ جو بظاہر ان کے حق میں تھا حضرت رسول اللہ ﷺ کے الفاظ کے محتاط چناؤ کی وجہ سے ان کے مفاد کے خلاف نکلا۔اگر وہ رسول اللہ کی قیادت میں انہیں مدینہ رہائش اختیار کرنے کی اجازت دیدیتے تو ان کی مجال نہ ہوتی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مرضی کے خلاف معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اہل مکہ پر حملہ کر سکتے۔مگر مکہ سے بھاگنے والے چونکہ مدینہ میں نہ بس سکتے تھے اسلئے انہوں نے درمیان میں کہیں