عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 209

غیروں سے معاهدات 209 آئندہ سال وہ مکہ میں آکر رسم عمرہ ادا کر سکتے ہیں مگر سوائے نیام میں بند تلوار کے کوئی ہتھیا ر ساتھ نہ ہو اور مکہ میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں۔یشق ، پہلی شق کو مزید نرم کر دیتی ہے اور صرف وقت کی تعین کا مسئلہ رہ جاتا ہے۔گویا بصورت دیگر انہوں نے مسلمانوں کا بنیادی حق تو تسلیم کر لیا مگر اس پر تاخیر کے ساتھ عمل کرنے کی اجازت دی۔جہاں تک تلواروں کا نیام میں رکھنا ہے وہ تو عین حج اور عمرہ کی روح کے مطابق بات تھی۔اس میں بھی آنحضرت ﷺ نے کسی بنیادی حق یا اصول کی قربانی نہیں دی۔۔صلى الله اگر کوئی مرد مکہ والوں میں سے مدینہ جائے تو خواہ وہ مسلمان ہی ہو آنحضرت ﷺ اسے مدینہ میں پناہ نہ دیں اور واپس لوٹا دیں۔چنانچہ اس تعلق میں صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں لا پاتیک منا رجل و ان کان علی دینک الا رددته الینا۔یعنی ہم میں سے اگر کوئی مرد آپ کے پاس جائے تو آپ اُسے واپس لوٹا دیں گے۔لیکن اگر مسلمان مدینہ کو چھوڑ کر مکہ میں آجائے تو اسے واپس نہیں لوٹایا جائے گا۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اگر مکہ والوں میں سے کوئی شخص اپنے ولی یا گارڈین کی اجازت کے بغیر مدینہ آ جائے تو اسے واپس لوٹا دیا جائے گا۔جہاں تک کسی مسلمان کے مدینہ سے مکہ جا کر بسنے کا تعلق ہے تو یہ مدینہ کے ہر شخص کا حق تھا کہ جہاں چاہے جاکر زندگی بسر کرے۔جہاں تک کسی مسلمان کے مکہ سے نکل بھاگنے کا تعلق ہے چونکہ اس وقت تک مشرکین کو مکہ پر حکومت حاصل تھی اور عملاً انہوں نے بہت سے مسلمانوں کو قیدی بنایا ہوا تھا اسلئے انکا قانون ان کے روک رکھنے کا حق رکھتا تھا۔پس یہاں ہر گز کسی اصول کی قربانی نہیں ہے نہ پہلی شق میں اور نہ دوسری شق میں۔ہاں تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ان بھاگے ہوئے قیدیوں کو مدینہ میں پناہ نہیں دی جائے گی تا کہ اہل مدینہ ان کے فرار میں ملوث نہ سمجھے جائیں۔معاہدہ پر پابندی کا جہاں تک تعلق ہے رسول ﷺ اس بارہ میں اس حد تک محتاط تھے کہ اس وقت جب ابھی معاہدہ کی ان شرائط پر گفتگو ہورہی تھی اور ابھی معاہدہ طے پا کر اس پر دستخط نہیں ہوئے تھے تب بھی رسول اللہ اللہ نے یہ عظیم کردار دکھایا کہ عین اس وقت جب یہ شرط ابھی زیر بحث تھی اچانک قریش مکہ کے سفیر سہیل بن عمرو کا بیٹا ابو جندل بیڑیوں اور ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا گرتا پڑتا اس مجلس میں آپہنچا۔اس نوجوان کو اہل مکہ نے مسلمان ہونے پر قید کر لیا تھا۔جب اسے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ مکہ کے اس قدر قریب تشریف لائے ہوئے ہیں تو وہ کسی طرح گرتا پڑتا حدیبیہ میں پہنچ گیا اور اپنے آپ کو مسلمانوں کے سامنے لا ڈالا اور دردناک آواز میں