عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 203
بندہ سے خدا کا معاهده اور ذیلی معاهدات 203 آیات یا ان سے بہتر نازل فرما دیتا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت بھی کسی دوسری آیت کو منسوخ نہیں کرتی۔اور تنسیخ کے بعد ویسی ہی آیت یا اس سے بہتر آیات نازل نہیں کی جاتیں۔اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے پرانے علماء اپنے زعم میں پانچ سوایسی آیات کی نشاندہی کرتے ہیں جنہیں پانچ سو دوسری آیات نے منسوخ کر دیا ہے۔پھر پا تو ویسی ہی پانچ سو آیات ان منسوخ شدہ آیات کی جگہ نازل کی گئیں یا ان سے بہتر آیات۔وہ کونسی آیات تھیں جنہوں نے اپنی جیسی دوسری آیات کو بلا وجہ منسوخ کیا؟ اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا جا تا۔اسی طرح وہ کونسی بہتر آیات ہیں جو ان کی جگہ نازل کی گئیں۔ان کا بھی کوئی مدلل ذکر نہیں ملتا۔دراصل یہ محض پرانے علماء کا ناسخ و منسوخ کا غلط عقیدہ تھا کہ جس کی تائید میں انہوں نے اس آیت کا سہارا لینے کی کوشش کی ہے۔قرآن کریم کی یہ آیت ناسخ و منسوخ کے عقیدہ سے کوئی بھی تعلق نہیں رکھتی۔ہاں اس میں آیات سے مراد خدا تعالیٰ کے نازل کردہ گزشتہ مذاہب ہیں۔جب کبھی ایسا ہوا، ان جیسے اور مذاہب ان کی جگہ لینے کیلئے نازل فرما دئے گئے لیکن جب زمانہ کی ضرورت نے تقاضا کیا تو اس نئی ضرورت کے پیش نظر پہلوں کی جگہ نئی یا ترقی یافتہ مذاہب نازل فرما دئے گئے۔اس طرح مذاہب کا ارتقا جاری رہا یہاں تک کہ اسلام کے ظہور پر یہ ارتقا مکمل ہو گیا۔انفرادی معاہدات: اب تک جن عہدوں کا ذکر گزرا ہے وہ اجتماعی نوعیت کے تھے۔اب ہم انفرادی نوعیت کے معاہدات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔جن کا تعلق بندہ اور خدا کے ساتھ انفرادی طور پر باندھے ہوئے عہدوں سے ہے یا بندوں کے بندوں کے ساتھ انفرادی طور پر باندھے ہوئے عہدوں سے ہے۔چنانچہ فرمایا: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (الاحزاب 24:33) مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔پس ان میں سے وہ بھی ہے جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہے جو ابھی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ہرگز (اپنے طرز عمل میں ) کوئی تبدیلی نہیں کی۔