عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 197

بندہ سے خدا کا معاہدہ اور ذیلی معاهدات 197 کی سختی سے ایک طبعی تعلق ہے۔چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ عہد شکنی کرنے والے بنی نوع انسان کی ہمدردی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور سوسائٹی میں غریب اور محروم طبقے کی تکلیفوں اور مصائب سے بے تعلق اور بے حس ہوتے چلے جاتے ہیں سوائے اس کے کہ نام اور دکھاوے کی خدمت خلق ہو۔بظاہر عیسائی تو میں انسانی ہمدردی میں ایک خاص شہرت رکھتی ہیں اور خود عیسائیت کی تعلیم اس معاملہ میں ایک حسین تعلیم ہے لیکن بنظر غور دیکھیں تو بڑے بڑے عظیم الشان عیسائی ممالک کا اقتصادی نظام ہی سخت دلی پر مبنی ہے۔چنانچہ فی زمانہ رائج کیپٹلزم (capitalism) اور سود کا عالمگیر نظام اہل کتاب سے تعلق رکھنے والی دو قوموں یعنی یہود اور نصاری کا مرہون منت ہے اور ادنیٰ اور محروم اور غریب طبقے کی تکالیف اور مصائب کے احساس سے عاری یہ نظام امیر وغریب میں مزید فرق کرتا چلا جاتا ہے۔تیسری سزا یہ بیان فرمائی گئی کہ ایسی قومیں اپنے مطلب کی خاطر قوانین کو توڑنے موڑنے اور من مانے مطالب نکالنے کی عادی بن جاتی ہیں۔آجکل کی ڈپلومیسی کی جان اسی مکر وفریب میں ہے۔چنانچہ مذہبی دنیا میں بھی ایسی قوموں کے علماء خود اپنے الہی صحیفوں اور احکامات سے اس قسم کا کھیل کھیلتے ہیں اور مطالب کو توڑنے موڑنے میں اور اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے۔ایک اور سزا یہ بیان فرمائی گئی کہ اگر چہ وہ پوری شریعت کو مکمل طور پر تو ترک نہیں کرتے لیکن اس کے بعض حصوں کو اختیار کر لیتے ہیں اور بعض حصوں کو بھلا دیتے ہیں۔ایسی قوموں کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ واقعتہ عہد شکن قوموں نے یہی رخ اختیار کیا اور کلیتہ دین سے منحرف نہیں ہوئیں بلکہ بعض حصوں سے چھٹی رہیں اور بعض حصوں کو متروک کر دیا۔قرآن کریم کے مطابق اس کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قومیں بالعموم خائن بن جاتی ہیں اور خدا ہی کے معاملہ میں نہیں دنیا میں بھی ایک دوسرے سے خیانت کرنا ان کا شعار بن جاتا ہے سوائے ان چند لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس بیماری سے محفوظ رکھتا ہے۔یعنی ساری قوم سو فیصدی بدنہیں ہوا کرتی بلکہ اکثریت بد ہو جاتی ہے اور بہت تھوڑی تعداد نیکی پر قائم رہتی ہے۔پس سرسری مطالعہ سے بھی صاف ظاہر ہے کہ یہ ساری سزائیں وہ ہیں جو دراصل سزائیں نہیں بلکہ بیماریوں کے نتائج ہیں۔اس نقطۂ نگاہ سے عدل کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ عہد شکنی ، ترک عدل کی ایک سنگین صورت ہے اور اس کے نتیجہ میں صرف ایک بیماری نہیں بلکہ مسلسل بڑھنے والی متعدد بیماریاں انسان کو چمٹ جاتی ہیں جو بالآخر اس کے لئے مہلک ثابت ہوتی ہیں۔جہاں ان سزاؤں کا بیان ہے وہاں خود خدا تعالیٰ کی طرف سے عدل کی ایک بہت ہی پیاری مثال بھی پیش کر دی گئی۔خدا تعالیٰ کسی قوم