عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 166
166 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم اسے با قاعدہ اسلامی احکام کی فہرست میں داخل کرنا یہ قرآن کریم کی ایک استثنائی شان ہے۔آپ تمام دنیا کے مذاہب کی الہی کتب کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے وہاں آپ کو اس مضمون کی کوئی عبارت دکھائی نہیں دے گی کہ لین دین کے معاملات کو لازماً لکھو۔خصوصاً یہ امر پیش نظر رکھنے کے لائق ہے کہ جس زمانہ میں یہ فرمانِ الہی نازل ہوا اس زمانہ میں جیسا کہ یہ آیت خود گواہ ہے عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج عام نہیں تھا اور لکھنے کے اہل لوگ کم کم ملتے تھے۔لین دین کے معاملات میں ایسی واضح تعلیم حیرت انگیز ہے اور آج جتنے بھی ایسے جھگڑے مسلمان معاشرہ میں ہیں، ان میں سے بیشتر اس بنا پر پیدا ہوتے ہیں کہ شروع میں دو معاہدہ کرنے والے زبانی باتوں پر راضی ہو جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں شرائط قطعی اور واضح نہیں ہوتیں۔حالانکہ آجکل تقریباً ہر انسان کو لکھنا پڑھنا آتا ہے اور تحریرلکھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔اسی طرح بسا اوقات گواہوں کا فقدان ہوتا ہے اور محض تحریر پر اکتفا کیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں قرآن کریم کی ہدایت میں مضمر گہری حکمت سے فریقین محروم رہ جاتے ہیں۔قرآن کریم کا تحریر پر گواہ رکھنے کا مقصد تو یہ ہے کہ تحریر کے سمجھنے میں اگر کبھی کوئی غلط نہی ہو تو گواہ موجود ہوں اور بتا سکیں کہ دراصل یہ تحریر ان معنوں میں لکھی گئی تھی اور جس گفتگو کو تحریر میں ڈھالا جارہا تھا اس گفتگو کا یہ مفہوم تھا۔اس آیت کریمہ میں اس تفصیل سے اس موضوع کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھی گئی ہے کہ تحریر دینا اس کا ذمہ قرار دیا جس پر حق ہے اور اس میں ایک بہت اہم نکتہ ہے۔معاملات میں اگر حق لینے والے پر تحریر رکھی جاتی تو تحریر کے عمد ابگاڑنے کے نسبتاً زیادہ احتمالات ہوتے۔حق دینے والا اگر اپنے ہاتھ سے یہ تحریر دے دے کہ ہاں میں نے یہ حق دینا ہے تو یہ بہت زیادہ قطعی بات ہے بہ نسبت اس کے کہ حق لینے والا کوئی تحریر لکھے یا لکھوائے۔پھر یہ احتمال بھی موجود ہے کہ جوتحریر دیتا ہے وہ ذہنی طور پر کمزور ہو۔اگر اس کی ذہانت کی کمی کی وجہ سے خطرہ ہو کہ جس حد تک وہ دین دار ہے اس کی بجائے کہیں زیادہ کی ذمہ داری قبول نہ کرلے تو فرمایا ایسی صورت میں وہ تحریر نہیں لکھوائے گا بلکہ اس کا ولی لکھوائے گا اور پوری احتیاط کرے گا کہ جو معاہدہ تھا اس کی روح کو تحریر میں صحیح معنوں میں ڈھالا گیا ہے۔اس کا ایک اور پہلو ہے کہ اگر دو مرد میسر نہ آئیں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں۔ایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ دونوں عورتیں الگ الگ گواہ کے طور پر پیش ہوں گویا کل تین گواہ بن گئے۔مراد صرف یہ ہے کہ دو عورتوں میں سے ایک گواہ ہو اور دوسری یاد دہانی کے لئے پاس بیٹھی رہے تا کہ اگر مالی معاملات میں وہ کچھ بھول چکی ہے تو وہ اسے یاد کرا دے۔