عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 133
عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربیٰ کا مقام 133 محض ساتھ والے ہمسایوں کی خاطر نہیں بلکہ مسلمانوں کے اپنے گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے موجود ہو سکتے ہیں جن کے آرام میں اس وقت ہرگز خلل نہیں ڈالنا چاہئے۔بعض ایسے بیمار لوگ یا خواتین ہوسکتی ہیں جن کا تہجد کیلئے جاگنا ضروری نہیں۔نماز تہجد ادا کرنے والے کو چاہئے کہ ان سب کی خاطر اپنی آواز کو دھیما رکھے۔مندرجہ بالا آیت واضح طور پر ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم ان دونوں انتہاؤں کے مابین ایک متوازن راہ اختیار کریں تا کہ تہجد نہ پڑھنے والے تہجد پڑھنے والوں کی وجہ سے تنگ نہ ہوں۔ایک وقت تھا جب مسلم ممالک میں نماز فجر کی اذان لاؤڈ سپیکر پر نہیں دی جاتی تھی۔چنانچہ دھیمی آواز صرف ان لوگوں کو ہی بیدار کیا کرتی تھی جو واقعتہ اسے سننا چاہتے اور علی اصبح اٹھنے کی نیت رکھتے تھے۔اس طرح اذان کی آواز مسجد کے اردگرد ہمسایوں تک محدود رہتی تھی لیکن اب صورت حال یکسر مختلف ہے۔اب تو ملاؤں کی انا کی تسکین نہیں ہوتی جب تک اذان انتہائی بلند آواز میں اور طاقتور ترین لاؤڈ سپیکر کے ذریعے نہ دی جائے۔اگر بات ایک سپیکر تک محد و در رہتی تو اس قدر نا قابل برداشت نہ ہوتی جتنی اب ہو چکی ہے۔اب تو لوگ بے شمار اذا نہیں سنے پر مجبور ہیں۔ایک اذان ختم ہوتی ہے تو دوسری شروع ہو جاتی ہے۔یہ سب اذانیں مختلف آوازوں اور مختلف اوقات میں کہی جاتی ہیں اور ان انتہائی طاقتور لاؤڈ سپیکروں کی بدولت دُور دُور کے رہنے والے بھی ان اذانوں سے مستفید ہوتے ہیں۔بعض مولوی حضرات پو پھٹنے سے قبل ہی اذان شروع کر دیتے ہیں اور بعض کافی دیر بعد اذان کہنا شروع کرتے ہیں۔نتیجہ بے سری آوازوں کا تقریباً نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلتا ہے۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ بعض تو لہک لہک کر اذانیں کہ رہے ہوتے ہیں اور بعض محض بھڑی آوازوں میں لڑا رہے ہوتے ہیں۔بعض ملاؤں نے تو ایسے طریق اختیار کر لئے ہیں جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نام و نشان تک نہیں ملتا۔بہت سے ملاں نماز فجر کے وقت سے بہت پہلے حمدیں اور نعتیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں پھر کہیں جا کر اذان کی باری آتی ہے۔چنانچہ نماز تہجد سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک بشمول غیر مسلموں کے تمام لوگوں کی نیند اور سکون اسی طرح بر باد کیا جاتا ہے۔بعض مولوی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی آواز بہت سریلی اور سحرانگیز ہے۔وہ اسی یقین کے ساتھ خود ستائشی میں مبتلا ہوتے ہیں گویا سارا شہر ان کی سریلی آواز کا منتظر ہے۔حالانکہ انہیں یہ محسوس نہیں ہورہا ہوتا کہ وہ تو محض دہشت پھیلا رہے ہیں۔افسوس! کہ وہ اس آیت قرآنی پر نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتے: