عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 114

114 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم اٹھانے کی اجازت حملہ کی غرض سے نہیں بلکہ محض دفاع کی خاطر دی گئی ہے۔بنیادی طور پر جہاد سے مراد کوئی مسلح جدو جہد نہیں ہوتی۔مندرجہ بالا آیات میں دفاعی جدوجہد کو بھی جہاد کی بجائے قتال کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور یہ اصطلاح اس وقت اطلاق پاتی ہے جب دو حریف با ہم برسر پیکار ہوں۔مسلمانوں کو اپنے دفاع میں وہی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو ان کے حقوق کو غصب کرنے کیلئے ان کے خلاف استعمال کئے جاتے ہیں۔یہ آیات بتا رہی ہیں کہ وہ پہلے سے ہی جارحیت کا نشانہ بنے ہوئے تھے یہاں تک کہ انہیں ان کے گھروں سے بھی نکال دیا گیا اور لمبے عرصے تک انہیں اس جارحیت کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی جو دشمنوں کیلئے حملہ کرنے کی وجہ فراہم کرتی سوائے ان کے اس دعوے کے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔چنانچہ کوئی بھی باشعور انسان بآسانی یہ مشاہدہ کر سکتا ہے کہ اس سارے ظلم وستم کے بعد جب انہیں اپنے دفاع کی اجازت دی گئی تو اسے ہرگز جارحیت نہیں کہا جاسکتا۔جس حکمت کی بنا پر مسلمانوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دی گئی ہے اسی حکمت کی وجہ سے ان تمام مذاہب کو اس کی اجازت دی گئی ہے جن کے پیغام کو بزور شمشیر دبانے کی کوشش کی گئی۔یہ دراصل ایک اعلان ہے جس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ یہ بنیادی حق تمام مذاہب کو یکساں طور پر دیا گیا ہے۔چنانچہ اگر اللہ تعالی بعض لوگوں کو اپنی عبادت گاہوں کی حفاظت کیلئے ہتھیا راٹھانے کی اجازت نہ دیتا تو نہ صرف مساجد بلکہ گرجے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں بھی مسمار کر دی جاتیں۔مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں بلا خوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ صرف اسلام ہی ایسا مذ ہب ہے جو آزادی ضمیر کے بنیادی انسانی حق کی حفاظت کرتا ہے۔اسے جہاد کہیں یا قتال لیکن یہ حق صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے۔ہاں مسلمانوں کو اس آیت میں متنبہ ضرور کیا گیا ہے کہ وہ دیگر اقوام و مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام قائم کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں کے وارث ہرگز نہیں بن سکتے ورنہ ان کا یہ حق قائم نہیں رہے گا کہ ان کی عبادت گاہوں کا احترام کیا جائے۔وہ دوسروں کی عبادت گاہوں کا احترام کر کے ہی اپنے اس حق کے مستحق بن سکتے ہیں۔مندرجہ بالا آیات نہ صرف عدل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ احسان کے زمرے میں داخل ہیں جس سے مراد یہ ہے کہ عدل کے تقاضوں سے آگے بڑھ کر دوسروں کے ساتھ حسن و احسان کا معاملہ کیا جائے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی عبادت کا رنگ خواہ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو پھر بھی ایک حقیقی مسلمان کا فرض ہے کہ نہ صرف ان کے ساتھ عزت واحترام سے پیش آئے بلکہ جب