عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 113

اسلامی جهاد کے متعلق غلط فهمی 11 - اسلامی جہاد کے متعلق غلط فہمی 113 آزادی ضمیر کے متعلق اسلام کے بالکل واضح اور غیر مبہم اعلان کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں اس کے اور اسلامی جہاد کے مابین بظاہر نظر آنے والے تضاد کوحل کرنا ہے۔ذرا غور فرمائیے کہ یہ کس قسم کا انصاف ہوگا کہ ایک طرف تو آزادی ضمیر کا غیر مشروط پر چار کیا جائے جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کو دنیا کے دیگر مذاہب اور اقوام کے خلاف ، اس امر کیلئے جس کو یہ حق سمجھتے ہیں، تلوار اُٹھانے کی ضرورت پڑ جائے۔اس مسئلے کو سمجھنے کیلئے ہم قارئین کی توجہ مندرجہ ذیل قرآنی آیت کی طرف مبذول کرواتے ہیں : أَذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُوْنَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِيْنَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَ مَسجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ (الج 4140:22) ترجمہ: ان لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا ہے (قتال کی ) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کئے گئے اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔( یعنی ) وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع ان میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔اور یقیناً اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اُس کی مدد کرتا ہے۔یقینا اللہ بہت طاقتور ( اور ) کامل غلبہ والا ہے۔یہ آیات جہاد بالسیف سے متعلق اسلامی احکامات کیلئے نہایت اہم اور بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔انہی آیات کے نزول پر مسلمانوں کو پہلی مرتبہ تلوار اٹھانے کی اجازت ملی۔یہ آیات واضح طور پر ان ضروری شرائط کا ذکر کر رہی ہیں جن کے تحت مسلمانوں کو جہاد بالسیف کی نہ صرف اجازت ملی بلکہ در حقیقت انہیں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ان آیات کا سرسری سا مطالعہ بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ تلوار