عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 110

110 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم واپس پرانے مذہب میں نہیں لاسکتیں کیونکہ دھمکیاں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ منافق تو بنا سکتی ہیں لیکن ان کے باطنی عقائد کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتیں۔لوگوں کو کسی مذہب میں زبردستی ہرگز داخل نہیں کیا جاسکتا۔لہذا انہیں سابقہ مذہب میں واپس لانے کا واحد ذریعہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس مذہب کو رد کرنے کی وجوہات کو منطقیانہ اور معقول دلائل سے دور کیا جائے کیونکہ مادی طاقت لوگوں کے عقائد تبدیل نہیں کر سکتی۔قرآن کریم بعض ایسے انبیا علیہم السلام کا ذکر بھی فرماتا ہے جن کے ساتھ ان کے معاندین کی طرف سے یہی ناروا سلوک روا رکھا گیا۔ہر جگہ اصل کہانی ایک ہی ہے۔اس لحاظ سے قرآن کریم میں مذکور انبیا میں حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط ، حضرت ہود اور حضرت صالح علیہم السلام شامل ہیں لیکن یہ فہرست یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔در حقیقت اس ضمن میں قرآن کریم نام لئے بغیر سب انبیا کا عمومی ذکر فرماتا ہے اور واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ تاریخ کے کسی بھی دور میں پیدا ہونے والے کسی بھی نبی کو کبھی دین میں جبر روا رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔چنانچہ باوجود سخت تکالیف کے وہ بڑے استقلال کے ساتھ آزادی ضمیر کے بنیادی اصول پر کار بند رہے اور اگر کسی جابر حکمران نے جبر دوسروں کا دین بدلنے کی کوشش کی بھی تو اس نے انہیں ہمیشہ عظیم قربانیاں دے کر بھی اپنے بنیادی حقوق کی حفاظت کیلئے کمر بستہ پایا۔ارتداد کے ”جرم“ پر بھی یہی حکم اطلاق پاتا ہے۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل قرآنی آیت 66 قابل توجہ ہے۔وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا فَأَوْحَى إِلَيْهِمُ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّلِمِينَ (ابراہیم 14:14) ترجمہ: اور ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم ضرور تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے یا تم لازماً ہماری ملت میں واپس آجاؤ گے۔تب ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ یقینا ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے۔نیادین اختیار کرنے والوں کو اس مزعومہ ارتداد کے جرم میں ملک بدر کرنے کے علاوہ دیگر سخت سزا میں بھی دی گئیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دشمنوں نے اس ”جرم“ کیلئے نہ صرف سزائے موت تجویز کی بلکہ اس پر عمل درآمد کا انتہائی سفاکانہ طریق اختیار کر کے انہیں زندہ جلا دینے کا فیصلہ کرلیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: