ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 74
ب المسيح 74 وہ خُدا میرا جو ہے جوہر شناس اک جہاں کو لا رہا ہے میرے پاس لعنتی ہوتا ہے مردِ مُفتری لعنتی کو کب ملے یہ سروری ہر صدی کے سر پر مجد ددین کے آنے کا دعوی ہے۔اور اس صدی کو تو میں سال گزر گئے اور جس کام کے لیے مجد دآتا ہے یعنی شرک و بدعت کو مٹانے کے لیے وہ تو ظاہر ہو گئے مگر تمھا را مجدد نہیں آیا۔جو آیا ہے تم اُس کو مفتری کہتے ہو۔یہ تو بتاؤ کہ مفتری کو کتنی مہلت ملتی ہے اور پھر اگر میں مفتری ہوں تو مجھے خدا نے سروری کیسے دے دی۔اس بیان میں بھی وہ تمام خوبیاں ہیں جو گذشتہ میں بیان ہوئی ہیں۔دعوی ہے، دلیل ہے اور حسن و خوبی ہے۔مسیح و مہدی کی آمد مہدی کی آمد کا سب کو صرف انتظار ہی نہیں تھا بلکہ پر جوش تمنا تھی۔علماء دین اس کی راہ تک رہے تھے مگر جب آ گیا تو سب سے اول منکر ہوئے اور روحانی نوشتوں کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔یہ بھی بتا دیا کہ لَا المَهْدِی إِلَّا عیسیٰ اور یہ بھی بتا دیا کہ جہاد بالسیف کو بند کرنے کی وجہ ان کی مایوسی ہے کہ مال غنیمت حاصل نہ ہوگا۔فرماتے ہیں یا دوہ دن جبکہ کہتے تھے یہ سب ارکانِ دیں مهدی موعود حق اب جلد ہوگا آشکار کون تھا جس کی تمنا یہ نہ تھی اک جوش سے کون تھا جس کو نہ تھا اُس آنیوالے سے پیار پھر وہ دن جب آگئے اور چودھویں آئی صدی سب سے اول ہو گئے منکر یہی دیں کے منار پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود پھر مسیح وقت کے دشمن ہوئے یہ بجبہ دار تھا نوشتوں میں یہی از ابتدا تا انتہا پھر مٹے کیونکر کہ ہے تقدیر نے نقش جدار میں تو آیا اس جہاں میں ابنِ مریم کی طرح میں نہیں مامور از بهر جہاد و کارزار اگر آتا کوئی جیسی انہیں امید تھی اور کرتا جنگ اور دیتا غنیمت بیشمار ایسے مہدی کے لیے میداں کھلا تھا قوم میں پھر تو اس پر جمع ہوتے ایکدم میں صد ہزار ا : یہودی صفت علماء