ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 44 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 44

المسيح 44 زمرہ انبیاء کے کلام کے موضوعات کی یہ بنیادی خصوصیت درجہ بدرجہ ترقی کرتی ہوئی ہمارے آقا اور مطاع حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے کامل نو راور حسن و جمال کیساتھ جلوہ نما ہوتی ہے اس کامل تجلّی، نور کے بیان میں حضرت اقدس فرماتے ہیں۔ہر رسولے آفتاب صدق بود ہر رسولی بود مہر انورے ہر رسول سچائی کا سورج تھا۔ہر رسول روشن آفتاب تھا ہر رسولے بود ظلے دیں پناہ ہر رسولے بود باغ مثمرے ہر رسول دین کو پناہ دینے والا سایہ تھا اور ہر رسول ایک پھلدار باغ تھا آں ہمہ از یک صدف صد گوہراند متحد در ذات و اصل و گوہرے وہ سب ایک سپی کے سو موتی ہیں۔جو ذات اور اصل اور چمک میں یکساں ہیں اول آدم آخر شاں احمد ست اے خنک آں کس کہ بیند آخرے اُن میں پہلا آدم اور آخری احمد ہے۔مبارک وہ جو آخری کو دیکھ پائے انبیاء روشن گهر هستند لیک ہست احمد زاں ہمہ روشن ترے تمام نبی روشن فطرت رکھنے والے ہیں۔مگر احمد اُن سب سے زیادہ روشن ہے۔اب دیکھ لیں سب انبیاء آفتاب صدق یعنی محبوب حقیقی کے مظہر ہوتے ہیں اور دین اور روحانیت ان کے موضوعات ہوتے ہیں اور ان عنوانات میں وہ سب مشترک اور ہم زبان ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ حضرت آدم سے لیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مثیل اور مہدی آخر زمان تک قائم و دائم رہتا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ محبوب حقیقی کی ذات وصفات اور اس کے عشق کے بیان میں آنحضرت کے فرمودات دیگر انبیاء سے روشن تر اور خوب تر ہیں۔آپ حضرت نے اردو میں ہی اس مضمون کو بہت پیارے انداز میں بیان کیا ہے۔فرماتے ہیں۔وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نو رسا را نام اُس کا ہے مُحَمَّدٌ دل بر مرا یہی ہے سب پاک ہیں پیمبراک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے