ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 32
المسيح 32 سچ تو یہی ہے کہ ہر درسگاہ کا ہونہار شاگرد اس کا چشم و چراغ ہی ہوتا ہے۔مرسلین باری تعالیٰ کی شان و عظمت کا اس سے بہتر اور کیا بیان ہوسکتا ہے۔محبوب حقیقی اپنے حسن و جمال کی تجلی اس چراغ سے کرتا ہے اور اس میں کسی اور کے حسن کا پر تو نہیں ہوتا۔وہ اُسی جمالِ اول و آخر کا ظہور ہوتا ہے اور صرف اُسی کے جمال کو ظاہر کرتا ہے۔دوسرے مصرعے میں یہی مضمون بیان ہوا ہے کہ محبوب حقیقی کا تصرف خاص اس چراغ کو خارجی محرکات اور تاثیرات سے پاک رکھتا ہے (باری تعالیٰ کے ہاتھ سے اس کا تصرف خاص ہی مراد ہے ) یعنی اس چراغ کے نور کی ترسیل بھی محبوب حقیقی خود ہی کرتا ہے اور کوئی طاقت اس کی نور افشانی میں حائل نہیں ہوسکتی۔باری تعالیٰ کی محبت کے ادب کی تخلیق کے عوامل ومحرکات اور ان کا صدق و تاثیر۔ان کے کلام کا حسن و جمال اس سے بہتر کیا بیان ہوسکتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ یہ شعر آسمانی ادب کی تخلیق اور تاثیر کے مضمون میں ایک ادبی شاہکار اور ادبی معراج ہے۔یہ وہ تصرفات الہیہ ہیں جن کے نتیجہ میں مرسلین کے کلام کی یہ کیفیت ہوتی ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم: 54) حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔لہذا ہر بات نبی کی جو نبی کی توجہ تام اور اس کے خیال کی پوری معروضیت سے اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ بلاشبہ وحی ہوتی ہے۔اور فرماتے ہیں: دوباره از سخن و وعظ من بیا باشد میں اس کی زبان ہو جاتا ہوں اس پر اشارہ ہے ” وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى“ اس لیے رسول کریم نے جو فر مایا وہ خدا تعالیٰ کا ارشاد تھا ( دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) کمال پاکی و صدق و صفا که گم شده بود پاکیزگی اور صدق وصفا کا کمال جو معدوم ہو گیا تھا وہ دوبارہ میرے کلام اور وعظ سے قائم ہوا ہے مرنج از سخنم ایکہ سخت بے خبری که اینکه گفته ام از وحی کبریا باشد اے بیخبر انسان میری اس بات سے ناراض نہ ہو۔کیونکہ یہ بات جو میں نے کہی ہے خدا نے مجھ پر وحی کی ہے۔کسیکه گم شده از خود بنور حق پیوست هر آنچه از دهنش بشنوی بجا باشد جو شخص اپنی خودی چھوڑ کر خدا کے نور میں جاملا۔اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات حق ہوگی۔یہ وہ فرمودات باری تعالی ہیں جن کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مرسلین باری تعالیٰ کے کلام کی تخلیق کے محرکات وعوامل اور اُن کی ادبی استعداد میں اللہ تعالیٰ کے قادرانہ تصرف کے تحت تشکیل پاتی ہیں۔وہ