ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 446 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 446

ب المسيح 446 ان اشعار کی شان کو مشاہدہ کریں۔صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی دیوار دیں اور مامن اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق ایں جدار آپ کے عشق الہی کا منصب دیکھیں يارب مرا بہر قدیم استوار دار واں روز خود مباد کہ عہد تو بشکنم اے رب مجھے ہر قدم پر مضبوط رکھ اور ایسا کوئی دن نہ آئے کہ میں تیرا عہد توڑوں در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کسے کہ لاف تعشق زند منم! اگر تیرے کوچہ میں عاشقوں کے سرا تارے جائیں تو سب سے پہلے جو عشق کا دعوی کرے گا وہ میں ہوں گا اور آخر پر باری تعالیٰ کی محبت اور اس سے قرب کو سمجھ لیں۔من نه واعظ که عاشق زارم آید از طور واعظاں عارم میں ایک واعظ نہیں بلکہ عاشق زار ہوں اور واعظوں کے طریق سے مجھے عار ہے نزد بیگانگاں جنوں زده ام نزد معشوق نیک ہشیارم خدا سے دور لوگوں کی نظر میں میں دیوانہ ہوں مگر معشوق کی نظر میں میں بہت ہوشیار ہوں حضرت اقدس کا روحانی منصب اور مقام تو آپ کی نثر کے ہر فقرے اور نظم کے ہر شعر میں ثابت اور عیاں ہے ہم نے نہایت اختصار سے کام لیتے ہوئے چند نمونے پیش کئے ہیں جو اس مضمون کا حق تو ادا نہیں کر سکتے البتہ یہ اظہار ضرور کر سکتے ہیں کہ ہم آپ کے عاشقوں میں سے ہیں اور آپ کی ہر تجلی اور ادائے محبوبی ہمیں جان و دل سے عزیز ہے۔یہ شعر ایک بار اور پیش خدمت ہے۔سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را میں نے اپنا تمام سرمایہ تیری جناب میں پیش کر دیا ہے۔کم و بیش کا حساب تو ہی جانتا ہے۔