ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 442
المسيح 442 امروز قومِ من نشناسد مقام من روزے بگریہ یاد کند وقت خوشترم آج کے دن میری قوم میرا درجہ نہیں پہچانتی لیکن ایک دن آئیگا کہ وہ رو رو کر میرے مبارک وقت کو یاد کرے گی اے قوم من بصبر نظر سُوئے غیب دار تا دست خود به عجز ز بهر تو گسترم! اے میری قوم صبر کیسا تھ غیب کی طرف نظر رکھ تاکہ میں اپنے ہاتھ ( خدا کی درگاہ میں ) تیری خاطر عاجزی کے ساتھ پھیلاؤں گر ہمچو خاک پیش تو قدرم بود چه باک چوں خاک نے کہ از خس و خاشاک کمترم اگر تیرے نزدیک میری قدر خاک کے برابر بھی نہیں تو کیا مضائقہ ہے خاک تو کیا میں کوڑے کرکٹ سے بھی زیادہ حقیر ہوں لطف است و فضل او که نواز د وگرنه من کرمم نه آدمی صدف استم نہ گوہرم! یہ اس کا فضل اور لطف ہے کہ وہ قدردانی کرتا ہے ورنہ میں تو ایک کیڑا ہوں نہ کہ آدمی۔سیپی ہوں نه که موتی زانگونه دست او دلم از غیر خود کشید گوئی گہے نبود دگر در تصورم اس کے ہاتھ نے اس طرح میرے دل کو غیر کی طرف سے کھینچ لیا گویا اس کے سوا اور کوئی بھی میرے خواب و خیال میں نہ تھا بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم خدا کے بعد میں محمد کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر یہی کفر ہے تو بخدا میں سخت کافر ہوں ہر تار و پود من بسراید بعشق أو از خود تهی و از غم آن دلستاں پُرم میرے ہر رگ وریشہ میں اُس کا عشق رچ گیا ہے میں اپنی خواہشات سے خالی اور اس معشوق کے غم سے پُر ہوں من در حریم قدس چراغ صداقتم دستش محافظ است ز هر بادِ صرصرم میں درگاہ قدس میں صداقت کا چراغ ہوں۔اُس کا ہاتھ ہر بادصر صر سے میری حفاظت کرنے والا ہے۔فرماتے ہیں۔بہت ہی دلفریب اشعار ہیں مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے و ہی جنت و ہی دارالاماں ہے