ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 431 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 431

431 ادب المسيح حضرت نے اپنی دعاؤں اور مناجات کی قبولیت کا کیا منصب بیان کیا ہے۔سب سے اول ہم آپ کے شاہکار اور بے مثال قصیدے کے آخری اشعار کو پیش کرتے ہیں۔یہ قصیدہ واصلین باری تعالیٰ کی شان اور مناقب کے بیان میں ہے۔آپ اپنی دعا کی تاثیر اور قبولیت کی شان کے بارے میں فرماتے ہیں۔ره خلاص کجا باشد آں سیه دل را کہ با چنیں دل من در پئے جفا باشد اُس سیاہ دل انسان کو نجات کیونکر مل سکتی ہے جو میرے جیسے دل والے پر ظلم کرنے کے درپے ہو چوسیل دیدہ کا بیچ سیل و طوفاں نیست بترس زیں کہ چنیں سیل پیش پا باشد ہماری آنکھ کے سیلاب کی طرح کا اور کوئی سیلاب نہیں اس بات سے ڈر کہ کہیں یہ سیلاب تیرے سامنے ہی نہ ہو ز آه زمرة ابدال بایدت ترسید على الخصوص اگر آه میرزا باشد تجھے ابدالوں کی جماعت کی آہوں سے ڈرنا چاہیئے۔خصوصا اگر مرزا ( غلام احمد ) کی آہ ہو اور اردو میں فرماتے ہیں : کو ہو کیوں ستاتے سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے دُور از بلا یہی ہے جس کی دُعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ گھر وہ میرزا یہی ہے اچھا نہیں ستانا پاکوں کا دل دُکھانا گستاخ ہوتے جانا اس کی جزا یہی ہے اور عربی میں فرماتے ہیں: إِلَيْكُمْ يَا أُولِـي مَـجْـدٍ إِلَيْكُمْ وَإِنْ لَّمْ تَنْتَهُوا فَالْوَقْتُ لَاحُ باز آجاؤ اے بزرگو! باز آجاؤ۔اگر تم باز نہ آؤ تو وقت ملامت کرے گا وَلِيْ قَدْرٌ عَظِيمٌ عِنْدَ رَبِّي وَسُخْلِى لَا يُرَدُّ وَلَا يُزَاحُ اور میرے رب کے حضور میں میرا بڑا مرتبہ ہے اور میری دعا رد نہیں کی جاتی اور نہ ہی ٹالی جاتی ہے وَ مِثْلِى حِيْنَ يَبْكِيْ فِي دُعَاءِ فَيَسْعَى نَحْوَهُ فَضْلٌ مُّتَاحُ اور میرے جیسا آدمی جب دعا میں روتا ہے تو اس کی طرف فضل مقدر دوڑ کر آتا ہے °