ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 424 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 424

ب المسيح 424 لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر یا گیا درگہ میں بار آخری شعر کی عاجزی اور انکساری کو دیکھیں کہ اپنے محبوب حقیقی کی عنایات پر ہزار جان سے فدا ہور ہے ہیں۔اور حیران ہیں کہ یہ کیسے ظہور میں آگئیں عاجزی ہو تو ایسی ہو اور اس پر احسان ہو تو ایسا ہو۔فارسی زبان میں اسی انداز سے باری تعالیٰ کی محبت اور اس کے احسانات کا ذکر ہے۔فرماتے ہیں: اے خدا اے چارہ آزار ما اے علاج گریہ ہائے زار ما اے خدا۔اے ہمارے دکھوں کی دوا۔اور اے ہماری گریہ و زاری کا علاج اے تو مرہم بخشِ جانِ ریش ما اے تو دلدار دل غم کیش ما تو ہماری زخمی جان پر مرہم رکھنے والا ہے۔اور تو ہمارے غمزدہ دل کی دلداری کرنے والا ہے از کرم برداشتی هر بار ما و از تو ہر بار و بر اشجار ما تو نے اپنی مہربانی سے ہمارے سب بوجھ اٹھا لیے ہیں اور ہمارے درختوں پر میوہ اور پھل تیرے فضل سے ہے حافظ و ستاری از جود و کرم بیکساں را یاری از لطف اتم تو ہی مہربانی اور عنایت سے ہمارا محافظ اور پردہ پوش ہے اور کمال مہربانی سے بے کسوں کا ہمدرد ہے بنده در مانده باشد دل تپاں ناگہاں درمان بر آری از میاں جب بندہ مغموم اور درماندہ ہو جاتا ہے تو تو وہیں سے اس کا علاج پیدا کر دیتا عاجزی را ظلمت گیرد براه نا گہاں آری برو صد مهر و ماه جب کسی عاجز کو رستے میں اندھیرا گھیر لیتا ہے تو تو یکدم اس کے لیے سینکڑوں سورج اور چاند پیدا کر دیتا ہے ہے حسن و خلق و دلبری بر تو تمام صحیح بعد از لقائے تو حرام حسن و اخلاق اور دلبری تجھ پر ختم ہیں تیری ملاقات کے بعد کسی سے تعلق رکھنا حرام ہے اور عربی میں بھی ایسا ہی انداز بیان اور عجز وانکسار ہے۔فرماتے ہیں: