ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 415 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 415

415 ادب المسيح اس لئے جب میرا غلام الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ “ کہتا ہے تو اللہ کہتا ہے کہ میرے غلام نے میری حمد کی اور جب میرا غلام الرَّحْمنِ الرَّحِیم “ کہتا ہے تو اللہ کہتا ہے کہ میرے غلام نے میری ثناء کی اور جب کہتا ہے مَالِكِ يَوْمِ الدِّين “ تو اللہ کہتا ہے میرے غلام نے میری مجد کی ہے ( اور ایک بار فرمایا میرے غلام نے یہ کام میرے سپر د کر دیا ہے ) اور جب وہ کہتا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ “ تو اللہ کہتا ہے کہ یہ میرے اور میرے غلام کے درمیان بات ہے اور میرے غلام کے لیے وہ ہے جو اُس نے مانگا اور جب وہ کہتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صَرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين “ تو اللہ کہتا ہے کہ یہ میرے غلام کا سوال ہے اور میرے غلام کے لیے وہی ہے جو اس نے سوال کیا ہے۔فرماتے ہیں: اور یہ فرمان بھی تو ہے کہ بہترین دعا الحَمدُ لِلهِ۔ہے۔عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ : أَفْضَلُ الذِّكْرِ : لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ وَ اَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ (ترمذى كتاب الدعوات باب دعوة المسلم مستجابة) ترجمہ: حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین ذکر کلمہ توحید ہے یعنی اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بہترین دعا الحمد اللہ ہے۔اپنے آقا اور مطاع کے اتباع اور آنحضرت کے فرمان کی تفسیر میں حضرت اقدس بھی ایسا ہی بیان کرتے ہیں۔فرماتے ہیں: سورۃ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے۔چنانچہ اس دعا کو اللہ تعالی نے یوں سکھایا ہے۔الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم۔۔۔۔الى الآخر یعنی دعا سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کی جاوے جس سے اللہ تعالیٰ کے لیے روح میں ایک جوش اور محبت پیدا ہو۔اس لیے فرمایا الحمد للہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔رَبِّ الْعَالَمِينَ سب کا پیدا کرنے والا اور پالنے والا۔اَلرَّحْمَان جو بلا عمل اور بن مانگے دینے والا ہے۔الرَّحِیم