ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 398
ب المسيح 398 اگرچہ یہ اشعار عاجزی اور خاکساری کے عنوان کے تحت آچکے ہیں مگر ان کا تکبر کے مضمون سے بھی قومی تعلق ہے۔نہیں ملتا وه دلدار ملے جو خاک اسکو ملے یار کوئی اس پاک جو دل لگا وے کرے پاک آپکو تب اُسکو پاوے پسند آتی ہے اُس کو خاکساری ہے ره درگاه باری تذلل ناداں ہے وہ مغرور و گمراه اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ بدی غیر کی ہر دم نظر ہے بے خبر ہے فارسی میں فرماتے ہیں: مگر اپنی بدی سے بے من آں شاخ خودی و خود روی از پیخ برکندم کہ مے آرد نی ناپاکی بر نفرین و لعنت را میں نے خودی اور خودرائی کی اس شاخ کو جڑ سے کاٹ ڈالا جو اپنی ناپاکی سے نفرین اور لعنت کا پھل پیدا کرتی ہے اگر از روضه جان و دل من پرده بردارند به بینی اندران آن دلبر پاکیزه طلعت را اگر میرے جان و دل کے چمن سے پردہ اٹھایا جائے تو تو اُس میں اُس پاکیزہ طلعت معشوق کا چہرہ دیکھ لے گا۔فروغ نور عشق أو زبام و قصر ما روشن مگر بیند کسے آن را که میدارد بصیرت را اُس کے نور عشق کی تجلی سے ہمارے بام وقصر روشن ہیں لیکن اُسے وہی دیکھتا ہے جو بصیرت رکھتا ہو نگاہِ رحمت جاناں عنایتها بمن کردست وگرنہ چوں منے کے یا بد آں رشد و سعادت را محبوب کی نگاہ ورحمت نے مجھ پر بڑی عنایتیں کی ہیں ورنہ مجھ جیسا انسان کس طرح اس رشد و ہدایت کو پاتا نظر بازانِ علم ظاہر اندر علم خود نازند! ز دست خود نگنده معنی و مغز و حقیقت را ظاہری علوم کے واقف اپنے علم پر نازاں ہیں انہوں نے اپنے ہاتھ سے اصلیت اور حقیقت اور مغز کو پرے پھینک دیا