ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 395 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 395

فرماتے ہیں: 395 اسلام چیز کیا ہے؟ خدا کے لیے فنا ترک رضائے خویش ہے مرضی خدا جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس رہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات شوخی و کبر دیو لعیں کا شعار ہے آدم کی نسل وہ ہے جو وہ خاکسار ہے اے کرم خاک! چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کبر حضرتِ ربّ غیور کو بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں چھوڑو غرور و کبر کہ تقوی اسی میں ہے ہو جاؤ خاک مرضی مولے اسی میں ہے تقویٰ کی جو خدا کے لیے خاکساری ہے عفت جو شرط دیں ہے وہ تقویٰ میں ساری ہے جو لوگ بد گمانی کو شیوہ بناتے ہیں تقوی کی راہ سے وہ بہت دور جاتے ہیں بے احتیاط اُن کی زباں وار کرتی ہے اور بہت درد سے فرمایا: اک دم میں اس علیم کو بیزار کرتی ہے اک بات کہہ کے اپنے عمل سارے کھوتے ہیں پھر شوخیوں کا بیج ہر اک وقت ہوتے ہیں اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اس یار کے لئے رہِ عشرت کو چھوڑ دو ادب المسيح