ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 391
391 ادب المسيح نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! انسان چاہتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، جوتی اچھی ہو، وہ خوبصورت لگے۔آپ نے فرمایا یہ تکبر نہیں۔آپ نے فرمایا اللہ تعالی جمیل ہے جمال کو پسند کرتا ہے۔تکبر دراصل یہ ہے کہ انسان حق کا انکار کرے لوگوں کو ذلیل سمجھے ان کو حقارت کی نظر سے دیکھے اور ان سے بری طرح سے پیش آئے۔اور دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں فرمایا: عَنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ قَالَ: نَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ عَلَى حَصِيرٍ فَقَامَ وَ قَدْ أَثْرَ فِي جَنْبِهِ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا لَكَ وِطَاءً فَقَالَ: مَالِيٍّ وَ لِلدُّنْيَا؟ مَا أَنَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبِ اسْتَطَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَ تَرَكَهَا۔(ترمذی کتاب الزهد) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر سو رہے تھے۔جب اٹھے تو چٹائی کے نشان پہلو مبارک پر نظر آئے۔ہم نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کے لئے نرم سا گدیلہ بنادیں تو کیا اچھا نہ ہو؟ آپ نے فرمایا۔مجھے دنیا اور اس کے آراموں سے کیا تعلق؟ میں اس دنیا میں اس مشتر سوار کی طرح ہوں جو ایک درخت کے نیچے ستانے کے لئے اترا اور پھر شام کے وقت اس کو چھوڑ کر آگے چل کھڑا ہوا۔اور عیب جوئی کے بارے میں فرمایا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ الله : يُبْصِرُ أَحَدُكُمُ الْقَذَاةَ فِي عَيْنِ اَخِيُهِ وَ يَنْسَى الْجِذْعَ فِي عَيْنِهِ۔(الترغيب والترهيب، باب الترهيب من ان يامر بمعروف و ينهي عن المنكر و ینسی نفسه، صفحه 15/ 4 بحواله ابن حبان في صحيح) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو انسان کو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر وہ بھول جاتا ہے۔بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے ( کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام )