ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 379
379 ادب المسيح قرآن کریم کے فرمودات اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو سننے کے بعد حضرت کا یہ فرمانا۔ہمیں اُس یار سے تقوی عطا ہے نہ یہ ہم سے کہ احسانِ خدا ہے کس قدر صاحب عظمت ہونے پر بھی عاجزانہ ہے اور اس میں یہ عرفان بھی دیا ہے کہ حقیقی تقویٰ احسان باری تعالی ہی سے حاصل ہوتا ہے۔یہی وہ احسان باری تعالی ہے جس کی برکت سے آپ کی یہ کیفیت ہے۔ہوئے ہم تیرے اے قادر توانا ترے در کے ہوئے اور تجھ کو جانا ہمیں بس ہے تیری درگہ پہ آنا مصیبت سے ہمیں ہر دم بچانا کہ تیرا نام ہے غفا ر و ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي اس کیفیت قلب کو تقوی کی روح کہتے ہیں۔اب یہ بھی سُن لیں کہ آپ حضرت نے تقوی کا کیا منصب بیان کیا ہے اور اس کی کیا تعریف کی ہے۔یہ بھی کہ اس مقام کو حاصل کرنے کی کیا شرائط ہیں۔فرماتے ہیں: زندہ وہی ہیں جو کہ خُدا کے قریب ہیں مقبول بن کے اُس کے عزیز و حبیب ہیں وہ دُور ہیں خُدا سے جو تقوی سے دُور ہیں ہر دم اسیر نخوت و کبر و غرور ہیں تقوی یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو کبر و غرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اُس یار کے لیے رہ عشرت کو چھوڑ دو