ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 18 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 18

المسيح 18 فَتَبْرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِينَ (المؤمنون: 15) ترجمہ: پس برکت والا ہے وہ اللہ جوسب سے زیادہ حسین تخلیق فرمانے والا ہے۔اور انسان کو خصوصیت سے حسین کہا ہے۔فرمایا: وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمُ (المؤمن : 65) ترجمہ: اور اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور نہایت حسین صورتیں بنائیں اور پھر فرمانِ عام ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں حسن کو اختیار کرو۔فرمایا: إن الله يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (البقرة : 196) ترجمہ: یقینا اللہ تعالی محسنین کو پسند کرتا ہے۔اور خاص طور پر اپنے قول کو حسین بناؤ۔فرمایا: وَقُلْ لِعِبَادِى يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (بنی اسرائیل : 54) ترجمہ: اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات کریں جو زیادہ حسین ہو۔اور فرمایا: وَقُولُو الِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة: 84) ترجمہ: لوگوں سے حسین طریق پر بات کرو۔حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن کریم لفظ حسن اور اس کے مشتقات سے بھرا ہوا ہے۔یہی اس کی شان اور منصب ہے کیونکہ جس ہستی کی طرف وہ بلاتا ہے وہ حقیقی معنوں میں حسن اول اور حسن آخر ہے۔اور قرآن اس حسن ازل اور لم یزل کی تجلی ہے۔اللہ تعالیٰ کی شناخت اس کی صفات سے ہوتی ہے اور گذشتہ کے فرموداتِ خداوندی سے یہ امر واضح ہے کہ ہر صفت اور ہر تحتی میں جو قد رمشترک ہے وہ حسن ہے۔اور یہ بھی کہ جہاں بھی حسن کی تجلی ہوگی وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا پر تو ہو گا۔انہی معنوں میں فرمایا ہے: قُلِ ادْعُوا اللهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيَّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (بنی اسرائیل: 111)