ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 17 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 17

17 ادب المسيح جیسا کہ ہم نے قرآن کریم اور ادب مرسلین کو آسمانی ادب اور دیگر ادبیات کو زمینی کہا ہے۔تو اس مقام تک آسمانی ادب اور زمینی ادب کی تعریف و تعبیر میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔دونوں ادب پاروں میں یہ قدر مشترک ہے اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ ادب حقیقت میں لفظ و معانی میں جمالیاتی عصر کو اجاگر کرنے کا نام ہے اور ادب خواہ آسمانی ہو یا زمینی اپنی سحر کاری اور جذب میں ایک سا ہی ہوتا ہے۔اور حسن کی دونوں تجلیات قلب و نظر کو شکار کرتی ہیں۔گو محبوب حقیقی کے حسن و جمال کی تجلی میں دیگر تمام تجلیات حسن سمو جاتی ہیں۔تا ہم حقیقت یہی ہے کہ اس حادثے کا بیان ہی ادب کا منصب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ادب پاروں کو ”ادب“ کا نام نہیں دیا بلکہ اس سے بہت بہتر معانی کے حامل لفظ کو ( جو کہ در حقیقت ادب کی جان ہے ) اختیار فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمودات کو احسن الحدیث اور احسن القصص کہا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی عظمت اور شان ہے کہ اس نے ایسے لفظ کو قبول نہیں کیا جو اپنے معانی اور مطالب کے اظہار میں ایسا اختلاف اور وسعت رکھتا ہو کہ اس کے ساتھ نفسِ مضمون کا ایک مستقل رشتہ قائم نہ ہو سکے۔( جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ لفظ ”ادب“ ایک مختلف المعانی علامت ہے )۔اس لیے قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت سے بعید تھا کہ وہ ایک مخصوص معانی کے اظہار کے لیے ایک ایسے پراگندہ خیال لفظ کو اختیار فرماتا جس کے حقیقی اور مجازی معنوں میں اختلاف ہو۔قرآن کریم نے اپنی ادبی شان بیان کرنے کے لیے حسن کا لفظ اختیار کیا ہے اور صرف یہی نہیں کہ قرآن کریم نے اپنے کلام کو حسین کہا ہے بلکہ سب سے اول اپنی ذات کو حسنِ کامل، کہا ہے۔فرمایا: اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنُى (طه: 9) ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اُسی کے لیے تمام اسمائے حسنہ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا (الاعراف : 181) ترجمہ: تمام حسین نام اللہ ہی کے ہیں۔اُس کو انہی ناموں سے پکارو۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام تخلیق کو حسین قرار دیا ہے۔فرمایا: الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ (السجدة : 8) ترجمہ: اللہ وہ ہے جس نے اپنی تمام مخلوق میں حسن قائم کیا ہے۔اور فرمایا: