ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 322 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 322

ب المسيح 322 مدحت قرآن کریم فارسی زبان میں گزشتہ میں تعین کی گئی ہے کہ ہم قرآن کریم کی بے شمار صفات اور عظمت وشان میں اس کی ان تین صفات کو پیش کرتے ہیں جو کہ قرآن میں بنیادی صفات کے طور پر بار بار بیان ہوئی ہیں۔وہ صفات اوّل۔نور دوم۔ہدایت سوم۔قرآن کی تاثیرات ہیں۔مدح قرآن میں حضرت اقدس کے کلام میں بھی یہی بنیادی عناصر ہیں۔یہی عناصر ثلاثہ آپ کے تینوں زبانوں کے کلام میں روشن اور عیاں ہیں۔اردو زبان کے نمونے پیش کئے جاچکے ہیں اب فارسی اور عربی کے کلام کو پیش کیا جائیگا۔اول قدم پر ہم آپ حضرت کی ایک عظیم الشان غزل نما نعت قرآن پیش کرتے ہیں جس میں ان تینوں صفات کا بیان بھی ہے اور قرآن کریم سے والہانہ محبت کا اظہار بھی۔فرماتے ہیں: از نور پاک قرآن صبح صفا دمیده بر غنچہ ہائے دلہا باد صبا وزیده قرآن کے پاک نور سے روشن صبح نمودار ہوئی اور دلوں کے غنچوں پر بادصبا چلنے لگی۔ایں روشنی و لمعال شمس الضحیٰ ندارد وائیں دلبری و خوبی کس در قمر نہ دیدہ ایسی روشنی اور چمک تو دو پہر کے سورج میں بھی نہیں اور ایسی کشش اور حسن تو کسی چاندنی میں بھی نہیں يوسف بقعر چاہے محبوس ماند تنہا وایس یوسفی که تن با از چاه برکشیده یوسف تو ایک کنویں کی تہ میں اکیلا تھا مگر اس یوسف نے بہت سے لوگوں کو کنوئیں میں سے نکالا ہے مشرق معانی صدہا دقایق آورد قد ہلال نازک زاں ناز کی خمیده منع حقایق سے یہ سینکڑوں حقایق اپنے ہمراہ لایا ہے۔ہلالِ نازک کی کمر ان حقایق سے جھک گئی ہے کیفیت علومش دانی شان دارد شہدیست آسمانی از وحی حق چکیده تجھے کیا پتہ کہ اس کے علوم کی حقیقت کس شان کی ہے وہ آسمانی شہد ہے جو خدا کی وحی سے ٹپکا ہے آن نیز صداقت چون رو به عالم آورد ہر بوم شب پرستے در گنج خود خزیده یہ سچائی کا سورج جب اس دنیا میں ظاہر ہوا تو رات کے پجاری اتو اپنے اپنے کونوں میں جا گھسے