ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 315
315 ادب المسيح یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الہی اور رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔اوّل تکبر کو توڑنا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اُونچا کیا ہوا ہوتا ہے گر کر زمین سے ہموار ہو جائے۔اسی طرح انسان کو چاہیے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دُور کرے۔عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گر کر مُتَصَدِّعًا ہو جاتا ہے۔اینٹ سے اینٹ جُدا ہو جاتی ہے ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) اللہ تعالیٰ نے جو صفات قرآن بیان کی ہیں ان کا ایک نہایت درجہ مختصر اور محدود ذکر کرنے کے بعد ہم اپنے پیارے آقارسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فرمودات نعتِ قرآن کے تعلق میں پیش کرتے ہیں مشاہدہ کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کس قدر قرآن کریم کے فرمودات کے اتباع میں ہیں اول قدم پر ہم اللهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیثِ “ کے قرآنی فرمان کے اتباع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بہت ہی حسین احادیث کو پیش کرتے ہیں۔فرماتے ہیں: حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے حسین کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے حسین ہدایت محمد کی ہدایت ہے۔(نسائی کتاب السهو) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی کی خوبیوں کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ قرآن پڑھتا ہے؟ (مسند احمد بن حنبل باقی مسند الانصار في مسند عائشة) دیکھ لیں کہ ” نور“ اور ہدایت دونوں صفات بیان ہو گئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں تم میں دو عظیم الشان چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ان میں سے پہلی تو اللہ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے پس اللہ کی کتاب سے چمٹ جاؤ اور اسے پکڑ لو آپ نے اس پر بہت ترغیب دلائی پھر فرمایا میرے اہل بیت۔دار می کتاب فضائل القرآن اور پھر قرآن کریم سے محبت اور اس کو پڑھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھاۓ۔(ترمذی کتاب فضائل القرآن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص کے سینہ میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہ ہو