ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 314
المسيح رو 314 اخْتِلاتٌ مَنى فِيهِ كُلُّ ذِكْرِ لِيَكُونَ بَعْضُ الذِكرِ تَفْسِيرًا لِبَعْضِهِ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمُ يَعْنِى يستولى جَلالُه و هيبته على قلوب العشاق لتقشعر جلودهم من كمال الخشية و الخوف يجاهدون في طاعة الله ليلاً و نهاراً بتحریک تأثيرات جلالية و تنبیهات قهرية من القرآن ثم يبدل الله حالتهم من التألم الى التلدذ ( تفسیر حضرت اقدس زمر آیت) ( ترجمہ ایڈیٹر الحق) یعنی یہ کتاب متشابہ ہے جس کی آیتیں اور مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ان میں کوئی تناقض اور اختلاف نہیں۔ہر ذکر اور وعظ اس میں دو ہرا کر بیان کئے گئے ہیں جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے مقام کے ذکر کی تفسیر ہو جائے۔اس کے پڑھنے سے ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت عاشقوں کے دلوں پر غالب ہو جاتی ہے اس لئے کہ ان کی کھالوں پر کمال خوف اور دہشت سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے رات دن اللہ تعالی اطاعت میں بہ دل و جان کوشش کرتے رہتے ہیں۔پھر ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس حالت کو جو پہلے دُکھ دوم۔درد کی حالت ہوتی ہے لذت اور سرور سے بدل ڈالتا ہے۔(الحشر: 22) لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِعَا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ترجمہ از حضرت اقدس: یہ قر آن جو تم پر اتارا گیا اگر کسی پہاڑ پرا تارا جاتا تو وہ خشوع اور خوف الہی سے ٹکڑہ ٹکڑہ ہو جاتا اور یہ مثالیں ہم اس لئے بیان کرتے ہیں کہ تا لوگ کلام الہی کی عظمت معلوم کرنے کے لئے غور اور فکر کریں۔اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ایک تو یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے کہ اگر پہاڑ پر وہ اتر تا تو پہاڑ خوف خدا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔جب جمادات پر اس کی ایسی تاثیر ہے تو بڑے ہی بیوقوف وہ لوگ ہیں جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور دوسرے اس کے معنے