ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 293
293 ادب المسيح مدحت و ترغیب اسلام فارسی زبان میں جیسا کہ ہم نے کہا ہے۔دراصل شعر اس وقت تخلیق ہوتا ہے جب جذبات قلبی محبت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔آپ حضرت کے قلبی جذبات اور رجحانات محبت الہی۔محبت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے گرد ہی طواف کرتے ہیں اور یہی آپ کے شعر کے بنیادی موضوعات ہیں اور آپ حضرت نے انہی تینوں زبانوں میں قلبی محبت سے کلام فرمایا ہے اور ان سب کے ادبی اقدار کو قائم رکھتے ہوئے فرمایا ہے مگر روحانی احساسات اور جذبات کے بیان میں فارسی زبان کے اشعار میں آپ کی حسن بیان کی لفظی اور معنوی خوبی سب زبانوں پر فائق نظر آتی ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ فارسی زبان نے بہت قدیم سے روحانی موضوعات کو اختیار کر کے اِن کے اظہار کا ایک عظیم لفظی اور مجازی سرمایہ مرتب کر لیا تھا اس وجہ سے ان جذبات کا اظہار اس زبان میں بہتر طور سے ہوسکتا تھا مگر ایک اہم وجہ یہ بھی تو ہے کہ آپ فارسی الاصل ہیں اور آپ کے شعر کی خوبی اور دیگر شعراء پر فائق ہونے کی حیثیت کو اللہ تعالیٰ نے فارسی ہی میں بیان کیا ہے۔فرمایا (الهام حضرت اقدس) در کلام تو چیزی است که شعراء را در آن دخله نیست ترجمہ: تیرے کلام میں ایک ایسی چیز (خوبی ) ہے جو شاعروں کو نصیب نہیں ہوئی۔( تذکرہ صفحہ 508 - مطبوعہ 2004ء) گو یہ بات بہت مرتبہ کہی جاچکی ہے مگر ہمارے لیے اس تکرار میں ایک مزا ہے جو ہم بار بار چاہتے ہیں۔اس کوشش میں ہی ہم اسی حقیقت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔کیونکہ اس موضوع کا تعلق بھی آپ کے اشعار کا بنیادی عنوان ہے اس لیے فارسی زبان میں بھی آپ حضرت نے اس مضمون کو بار بار اختیار فرمایا ہے اور نظم کی ہر صنف میں اس کو بیان کیا ہے۔حمایت و اعانت اسلام ابیات میں بھی موجود ہے۔قصیدے میں اور نظم اور غزل میں بھی ہے ہم کوشش کریں گے کہ ان کو نفس مضمون کے مطابق ترتیب سے لکھیں۔اول مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ آپ حضرت نے دینِ اسلام کی صداقت کو پانے کے لیے بہت محنت اور کاوش کی ہے۔