ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 12
المسيح 12 گذارشات کے ضمن میں چند وضاحتیں یہ بھی ہیں کہ ہم نے موضوعات شعر کی مطابقت میں قرآن کریم کے چنیدہ فرمودات کو پیش کیا ہے۔اس انتخاب کی حقیقی ضرورت یہ تھی کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ صرف وہی فرموداتِ قرآن پیش کیے جائیں جن کی تفسیر میں حضرت اقدس نے کچھ بیان کیا ہے۔یہ عمل اس لیے ضروری تھا کہ ایسا ہو کہ ہمارا استدلال ادبی مستند ہو جائے اور اس چناؤ اور اختصار کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ حضرت اقدس کے موضوعات شعری قرآن کریم کے موضوعات ہیں۔اور قرآن کریم میں ان موضوعات کے تحت لا تعداد فرمودات ہیں اور ان سب کو بیان کرنے کی یہ کوشش متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔دوسری گذارش یہ ہے کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض احادیث کا صرف ترجمہ اور بعض مقامات پر آپ کے مشہور عام اخلاق و اطوار کو پیش کیا ہے۔عام طور پر ایسے بیان کے حوالوں کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔حضرت اقدس کے فرمودات کا حوالہ بھی آپ کی تفسیر قرآن سے دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آیات کی تفسیر اس کتاب کے اقتباسات سے دی جارہی ہے تو اس صورت میں آپ کی تفسیر کا حوالہ ہی کافی سمجھا گیا ہے۔آیات قرآنیہ کا لفظی ترجمہ اس لیے پیش نہیں کیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر آیات کا تفسیری ترجمہ کرتے ہیں اس لیے ہم نے اس کو کافی سمجھا ہے۔ان سب گذارشات کی روشنی میں ہمارا دستور عمل یہ ہوگا کہ:۔اول : ہماری تلاش ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے زیر نظر موضوع کو کس طور پر بیان فرمایا ہے۔دوم: یہ تلاش ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور کس طور پر بیان فرمایا ہے۔سوم : یہ جائزہ لیا جائے گا کہ حضرت اقدس نے ان دو ماخذوں کا اتباع کس حسن و خوبی سے کیا ہے۔چہارم : اور آخر پر ان تینوں زبانوں کے مسلّمہ شعراء کے کلام سے حسب توفیق تقابلی اشعار پیش کیے جائیں گے۔بفضلہ تعالیٰ میں یہ خوب جانتا ہوں کہ اس ترتیب سے بہتر ترتیب بھی ہو سکتی تھی۔مگر ہر خادم اپنی استعداد کے مطابق ہی خدمت کر سکتا ہے۔اس صورت میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے۔سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را میں نے اپنا تمام سرمایہ خدمت میں پیش کر دیا ہے۔تو ہی جانتا ہے کہ یہ کافی ہے کہ نا کافی۔